Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران جنگ کے باعث مودی کی ’ویڈ اِن انڈیا‘ مہم

    ایران جنگ کے باعث مودی کی ’ویڈ اِن انڈیا‘ مہم

    بھارت میں ایران جنگ کے معاشی اثرات کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی “ویڈ اِن انڈیا” مہم ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں حکومت شہریوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ بیرونِ ملک مہنگی شادیوں کے بجائے اپنے ہی ملک میں شادیاں منعقد کریں تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی نے حالیہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی مقامات پر شادیوں کا بڑھتا رجحان ملکی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے کیونکہ اس سے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی خرچ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “شادیوں کے لیے بھارت سے زیادہ خوبصورت اور مقدس جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔”یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے بعد عالمی تیل منڈی میں بے چینی پیدا ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی نے بھارت جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ بھارت اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد بھارتی روپیہ پانچ فیصد سے زائد کمزور ہو چکا ہے، جس کے بعد حکومت نے عوام سے ایندھن بچانے، گھر سے کام کرنے، مقامی سیاحت کو فروغ دینے اور سونے کی خریداری محدود کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔بھارت دنیا میں سونے کے بڑے خریدار ممالک میں شمار ہوتا ہے اور شادیوں میں سونے کو خوش قسمتی اور خاندانی دولت کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم حکومت اب شہریوں کو ایک سال تک سونے کی خریداری کم کرنے کا مشورہ دے رہی ہے تاکہ درآمدی اخراجات قابو میں رکھے جا سکیں۔

    دوسری جانب بھارت کی شادیوں کی صنعت گزشتہ ایک دہائی میں غیر معمولی طور پر پھیلی ہے۔ بالی ووڈ کی چکاچوند، سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات اور ارب پتی خاندانوں کی شاہانہ تقریبات نے اس صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک امریکی سرمایہ کاری بینک کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ویڈنگ انڈسٹری کی مالیت تقریباً 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو خوراک اور کریانہ کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صارف شعبہ بن چکا ہے۔بھارت میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ سے ایک کروڑ شادیاں ہوتی ہیں، جبکہ پرتعیش تقریبات میں کئی دنوں تک جاری رہنے والی رسومات، موسیقی، رقص اور ثقافتی رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔

    2024 میں بھارت کے امیر ترین کاروباری خاندان امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی شادی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی، جس میں کم کارڈیشین، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ریحانہ سمیت عالمی شخصیات شریک ہوئی تھیں۔ اس سے قبل اداکارہ پریانکا چوپڑا اور امریکی گلوکار نک جونز کی جودھپور میں ہونے والی شاہانہ شادی بھی عالمی میڈیا کی شہ سرخی بنی تھی۔ویڈنگ انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارتی جوڑوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک کے بجائے مقامی تاریخی شہروں، محلات اور قلعوں میں شادیاں کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

    ممبئی سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ شوبھانگی سیٹھ نے بتایا کہ وہ ابتدا میں اٹلی کی جھیل کومو میں شادی کا خواب رکھتی تھیں، جہاں مشہور شخصیات شادیاں کر چکی ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے روایتی بھارتی شادی کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے منگیتر اس سال بھارتی شہر جے پورمیں شادی کریں گے، جہاں ہندو اور سکھ روایات کو یکجا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بھارت میں شادی کرنے سے نہ صرف ثقافتی وابستگی برقرار رہتی ہے بلکہ بیرونِ ملک ہونے والے بھاری اخراجات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

  • سڑک پر شرط لگا کر برہنہ دوڑ،شہری کیخلاف مقدمہ درج

    سڑک پر شرط لگا کر برہنہ دوڑ،شہری کیخلاف مقدمہ درج

    تھانہ گوجرہ، ضلع منڈی بہاؤالدین میں ایک شہری کے مبینہ طور پر سرِعام برہنہ ہو کر دوڑنے اور عوامی مقام پر فحش حرکات کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 211/26 دفعات 5 اور 7 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 294، 509، 109 اور 34 کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 18 مئی 2026 کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے پیش آیا جبکہ مقدمہ 20 مئی کی رات درج کیا گیا۔ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق پولیس موبائل گشت کے دوران قیچی چوک گوجرہ کے قریب موجود تھی کہ اطلاع ملی کہ شاہ پور صدر کے رہائشی عمر حیات نے مبینہ طور پر محمد احسان اور دو نامعلوم افراد کے ساتھ پانچ ہزار روپے کی شرط لگائی۔ شرط کے تحت عمر حیات نے اپنے کپڑے اتار کر مین سرگودھا روڈ پر تقریباً 100 قدم تک دوڑ لگائی۔پولیس کے مطابق اس دوران سڑک سے گزرنے والے شہریوں، خصوصاً خواتین، کو شدید ذہنی اذیت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملزمان کی اس حرکت سے عوامی جذبات مجروح ہوئے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی نامعلوم شخص نے اس تمام واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔

    پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد احسان اور دیگر نامعلوم افراد نے عمر حیات کو اس حرکت پر اکسایا اور باہمی مشاورت سے سرِعام فحش حرکات کا ارتکاب کیا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ ویڈیو بنانے والے شخص کی تلاش بھی جاری ہے۔ایف آئی آر اے ایس آئی کلام عباس کی مدعیت میں درج کی گئی جبکہ مزید تحقیقات کے لیے مقدمہ دوسرے تفتیشی افسر کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

  • واجب القتل ہو مجھ سے شادی نہیں کرو گی تو،ثاقب چدھڑ نے دھمکی دی،مومنہ کی درخواست

    واجب القتل ہو مجھ سے شادی نہیں کرو گی تو،ثاقب چدھڑ نے دھمکی دی،مومنہ کی درخواست

    اداکارہ مومنہ اقبال نے ایک بااثر سیاسی شخصیت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے تھانہ چوہنگ میں درخواست جمع کرا دی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ثاقب چدھڑ گزشتہ کئی برسوں سے انہیں ہراساں کر رہا ہے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور بلیک میلنگ کے ذریعے ان کی ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔درخواست کے مطابق مومنہ اقبال کی ملزم کے ساتھ 2022 میں جان پہچان ہوئی تھی، جس دوران ملزم نے شادی کی پیشکش بھی کی۔ تاہم بعد ازاں درخواست گزار کو معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے دو شادیاں کر چکا ہے۔ مومنہ اقبال کے مطابق ملزم کی اہلیہ کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کے بعد انہوں نے ثاقب چدھڑ سے تعلق ختم کر دیا اور شادی کی پیشکش مسترد کر دی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ تعلق ختم ہونے کے بعد ملزم مشتعل ہوگیا اور مختلف نمبروں سے دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے لگا۔ درخواست گزار کے مطابق ایک پیغام میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا کہ “تمہاری لاش بھی نہیں ملے گی” جبکہ ایک موقع پر مبینہ طور پر انہیں “واجب القتل” قرار دیتے ہوئے شادی پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔

    مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے متعدد بار مختلف بہانوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کرتا رہا کہ اس نے اپنی سابقہ بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ درخواست کے مطابق حالیہ دنوں میں جب ملزم کو مومنہ اقبال کی ممکنہ شادی کے بارے میں علم ہوا تو اس نے مبینہ طور پر جعلی اور نازیبا ویڈیوز اور تصاویر واٹس ایپ کے ذریعے بھیج کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ مواد درخواست گزار کی بہن اور دیگر قریبی افراد کو بھی بھیجا گیا جبکہ منگیتر اور اس کے دوستوں کو مسلسل کالز اور انسٹاگرام پیغامات کے ذریعے ہراساں کیا جاتا رہا۔ مومنہ اقبال کے مطابق ان کی والدہ نے معاملہ ختم کرنے کی غرض سے ملزم سے رابطہ کیا تو انہیں بھی مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔درخواست گزار نے الزام لگایا کہ ملزم نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ ان کے منگیتر کے خلاف چنیوٹ میں جھوٹا مقدمہ بھی درج کرا دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزم مسلسل ذہنی دباؤ، خوف اور ہراسانی کا باعث بن رہا ہے۔

    مومنہ اقبال نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ثاقب چدھڑ، اس کے مبینہ سہولت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف فوری مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے، انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

  • مالدیپ،پراسرار آبی غار پانچ اطالوی غوطہ خوروں کے لیے موت کا جال ثابت

    مالدیپ،پراسرار آبی غار پانچ اطالوی غوطہ خوروں کے لیے موت کا جال ثابت

    مالدیپ کے خوبصورت فیروزی پانیوں اور سفید ریتیلے ساحلوں کے نیچے موجود ایک پراسرار آبی غار پانچ اطالوی غوطہ خوروں کے لیے موت کا جال بن گئی، جبکہ امدادی کارروائی کے دوران ایک مقامی فوجی غوطہ خور بھی جان کی بازی ہار گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے دنیا بھر میں تکنیکی غوطہ خوری کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مالدیپ کے علاقے واوو ایٹول میں پیش آیا، جو دارالحکومت مالے سے اسپیڈ بوٹ کے ذریعے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ پانچ رکنی اطالوی ٹیم ایک گہرے اور تاریک زیرِآب غار کے نظام کی کھوج کے لیے اتری تھی، تاہم وہ واپس نہ آسکی۔مرنے والوں میں تجربہ کار ڈائیونگ انسٹرکٹر جیانلوکا بینیڈیٹی، جینوا یونیورسٹی کی ماہرِ ماحولیات پروفیسر مونیکا مونٹی فالکونے، ان کی بیٹی جورجیا سومکال، میرین بایولوجسٹ فیڈریکو گوالتیری اور محقق موریل اوڈینینو شامل تھے۔رپورٹس کے مطابق غار کا داخلی راستہ تقریباً 47 میٹر گہرائی میں واقع ہے جبکہ اس کی نچلی سطح 70 میٹر تک جاتی ہے۔ یہ غار مکمل اندھیرے، تنگ راستوں اور شدید سمندری دباؤ کے باعث دنیا کے خطرناک ترین ڈائیونگ مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔

    اطالوی غوطہ خور ایک لگژری یاٹ “ڈیوک آف یارک” پر مقیم تھے، جہاں سے وہ تحقیقی اور تفریحی غوطہ خوری کے مشن انجام دے رہے تھے۔ جمعرات کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے کشتی سے ہنگامی سگنل جاری کیا گیا جب غوطہ خور دو گھنٹے گزرنے کے باوجود سطح پر واپس نہ آئے۔ابتدائی امدادی کارروائی میں ایک قریبی کشتی نے حصہ لیا اور کچھ دیر بعد انسٹرکٹر بینیڈیٹی کی لاش غار کے دہانے سے برآمد کر لی گئی۔ بعد ازاں مالدیپ کوسٹ گارڈ نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا، تاہم باقی چار غوطہ خور کئی روز بعد غار کے تیسرے حصے میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ریسکیو آپریشن کے دوران مقامی فوجی غوطہ خور سارجنٹ محمد محدھی بھی ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق ان کی موت غالباً “ڈیکمپریشن سکنس” کے باعث ہوئی، جو تیزی سے سطح پر آنے کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ سارجنٹ محدھی کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

    مالدیپ حکام کے مطابق اطالوی ٹیم کو 30 میٹر سے زیادہ گہرائی تک جانے کی خصوصی اجازت حاصل تھی، تاہم حکام کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ غار کے اندر تکنیکی “کیو ڈائیونگ” کرنے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اس خطرناک منصوبے کی مکمل معلومات ہوتیں تو اضافی حفاظتی اقدامات اور ماہر معاونت فراہم کی جاتی۔جینوا یونیورسٹی نے تصدیق کی کہ مونیکا مونٹی فالکونے اور ان کے ساتھی مالدیپ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سمندری حیات پر اثرات کا مطالعہ کرنے آئے تھے، تاہم غار میں جانے والا یہ مخصوص غوطہ تحقیقی منصوبے کا حصہ نہیں تھا بلکہ ذاتی نوعیت کی سرگرمی تھی۔

    حادثے کے روز مالدیپ کے محکمہ موسمیات نے تیز ہواؤں اور خراب سمندری صورتحال کے باعث وارننگ بھی جاری کی تھی۔ بعد ازاں خبردار کیا گیا کہ ہواؤں کی رفتار 50 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے سمندر انتہائی خطرناک ہو گیا تھا۔ماہرین کے مطابق غار کے اندر مکمل اندھیرا، تنگ راستے، شدید سمندری دھاریں اور ذہنی دباؤ غوطہ خوروں کو راستہ بھلانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ برطانوی غار ریسکیو ماہر جان وولانتھن نے کہا کہ گہرائی میں “گیس نارکوسس” نامی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے غوطہ خور الجھن اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔مالدیپ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ یاٹ کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے پاس مکمل “ڈائیو اسکول لائسنس” موجود نہیں تھا، جبکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا غوطہ خور مطلوبہ حفاظتی سازوسامان کے ساتھ غار میں داخل ہوئے تھے یا نہیں۔مرنے والی پروفیسر مونٹی فالکونے کے شوہر کارلو سومکال نے اطالوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی اہلیہ دنیا کی بہترین غوطہ خوروں میں شمار ہوتی تھیں اور انہوں نے زندگی میں پانچ ہزار سے زائد غوطے لگائے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “وہ کبھی دوسروں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتیں، ضرور نیچے کچھ غیرمعمولی ہوا ہوگا۔”

  • مومنہ اقبال نے ثاقب چدھڑ کے خلاف ڈیجیٹل شواہد فراہم کر دیئے

    مومنہ اقبال نے ثاقب چدھڑ کے خلاف ڈیجیٹل شواہد فراہم کر دیئے

    اداکارہ مومنہ اقبال نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسانی کی شکایت پر قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو باضابطہ طور پر ڈیجیٹل شواہد فراہم کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اداکارہ کی عوامی اپیل کے بعد ایجنسی نے انکوائری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    اداکارہ کے وکیل کی این سی سی آئی اے کو پیش کردہ تفصیلات کے مطابق یہ تنازع ایک دیرینہ ذاتی معاملے سے جڑا ہے۔ مبینہ طور پر ایم پی اے ثاقب چدھڑ نے 2022 میں اداکارہ کو اپنی تیسری بیوی بننے کے لیے شادی کا باضابطہ پیغام بھیجا۔ رکن اسمبلی کی ازدواجی حیثیت معلوم ہونے پر اداکارہ نے رابطہ ختم کردیا،تاہم مبینہ طور پر ہراسانی کا سلسلہ تب شروع ہوا جب اداکارہ کی کسی اور سے منگنی کا اعلان ہوا،اداکارہ کے وکیل کی جانب سے چیٹ ہسٹری، ڈیجیٹل ریکارڈ اور مبینہ طور پر دھمکی آمیز پیغامات تفتیشی حکام کے حوالے کیے گئے ہیں،مومنہ اقبال نے کئی گھنٹوں تک اپنا بیان تفتیشی حکام کو ریکارڈ کروایا جبکہ ایم پی اے ثاقب چدھڑ بھی این سی سی آئی اے میں پیش ہوئے،این سی سی آئی اے کی تفتیشی ٹیم شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔ دھمکیوں اور سائبر ہراسانی کے الزامات ثابت ہونے پر معاملہ فوجداری کارروائی کے لیے پولیس کو بھیج دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر بیانات میں کہا تھا انہیں اور ان کے اہل خانہ کو حکمران جماعت کے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے،بیان میں کہا گیا کہ ملزم کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ایف آئی اے، پنجاب پولیس اور این سی سی آئی اے نے ان کی درخواستوں پر توجہ نہیں دی، تاہم سوشل میڈیا پر پوسٹس وائرل ہونے کے بعد ان کی شکایات پر کارروائی کا آغاز ہوا ہے۔

  • امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے استعفیٰ دے دیا

    امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے استعفیٰ دے دیا

    امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے استعفیٰ دے دیا ہے

    امریکی میڈیا کے مطابق تلسی گبارڈ نے شوہر کو ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص ہونے پر استعفیٰ دیا، انہوں نے جمعے کو اوول آفس میں صدر ٹرمپ کو فیصلے سے آگاہ کردیا تھا،برطانوی خبر ایجنسی نے اس معاملے سے واقف شخص کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تلسی گبارڈ کو وائٹ ہاؤس نے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا،یاد رہے کہ تلسی گبارڈ نے گزشتہ سال فروری میں عہدے کا حلف اٹھایا تھا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تلسی گبارڈ 30 جون کو اپنا عہدہ چھوڑ دیں گی، ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس آرون لوکاس عبوری ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیں گے۔

  • قومی سلامتی،فکری ہم آہنگی،اور اسٹریٹجک قیادت کےفروغ کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

    قومی سلامتی،فکری ہم آہنگی،اور اسٹریٹجک قیادت کےفروغ کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

    کوئٹہ میں قومی سلامتی اور اسٹریٹجک قیادت ورکشاپ 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچستان کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والی اہم علمی و انتظامی شخصیات نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد قومی سلامتی، داخلی و خارجی چیلنجز اور بلوچستان کے اہم مسائل سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔

    ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں بلوچستان کی 12 جامعات کے وائس چانسلرز، پرو وائس چانسلرز، ڈینز، پرو ڈینز، ریکٹرز، پرو ریکٹرز اور دیگر اہم شخصیات سمیت مجموعی طور پر 55 شرکاء شریک ہوئے۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو پاکستان کے اندرونی و بین الاقوامی روابط، قومی سلامتی کی صورتحال، بلوچستان کے قدرتی وسائل، تاریخی پس منظر، صوبے کو درپیش مختلف مسائل، دہشتگردی کے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔شرکاء نے موجودہ ملکی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں اس نوعیت کی ورکشاپ کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان روابط کے فروغ سے باہمی ہم آہنگی اور شعور میں اضافہ ہوگا۔

    اختتامی تقریب کے دوران آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں اور قومی سلامتی کے فروغ میں تعلیمی اداروں کے کردار کو اہم قرار دیا۔

  • سرکل گوجرخان میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ

    سرکل گوجرخان میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ

    سرکل میں ڈاکو اور چور بے لگام مویشی اور وہیکلز غائب، شہریوں کی راتوں کی نیندیں حرام، پولیس کا گشت کا نظام موثر بنانے کا مطالبہ
    سرکل میں بڑھتی ہوئی وارداتیں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر شہریوں میں شدید تشویش، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے اصلاح و احوال کی اپیل
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں چوری، ڈکیتی، مویشی چوری اور وہیکل لفٹنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کا جینا محال کر دیا۔ بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس پر عوامی و سماجی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران گوجرخان شہر سمیت سرکل بھر کے مختلف علاقوں میں چوروں اور ڈاکوؤں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ چور قیمتی مویشی ہانک کر لے جاتے ہیں، جبکہ چوک چوراہوں اور گھروں کے باہر سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہونا معمول بن چکا ہے۔ راہزنوں نے شہریوں سے نقدی اور موبائل فون چھیننے کی مہم شروع کر رکھی ہے، جس سے عام آدمی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے۔شہری اور سماجی حلقوں نے بدامنی کی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا روایتی گشت کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام، بالخصوص آر پی او راولپنڈی اور سی پی او سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکل گوجرخان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا سخت نوٹس لیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ سرکل بھر میں پولیس گشت کے نظام کو جدید اور مؤثر خطوط پر استوار کیا جائے، مشکوک عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے، اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاامتیاز گرینڈ آپریشن کر کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورہ پر روانہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورہ پر روانہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورہ پر روانہ ہو گئے ،

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دورہ ایران کے دوران ایران امریکہ بات چیت ،خطے میں قیام امن اور دیگر اہم امور پر بات چیت کرینگے، دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم اعلی ایرانی شخصیات سے ملاقات کرینگے،

    العربیہ نیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، امریکا اور ایران کے دوران مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں،

    قبل ازیں وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک ہفتے میں دوسری بار ایران کا دورہ کیا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ سے دو دن میں دوسری بار ملاقات کی ہے، پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین جنگ میں واحد ثالث ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہ چکے ہیں،قیام امن کے لئے عالمی دنیا بھی پاکستان کی معترف ہے

  • پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا ترکیہ کا سرکاری دورہ

    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا ترکیہ کا سرکاری دورہ

    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا ترکیہ کا سرکاری دورہ،ترک فضائیہ کے کمانڈر، وزیرِ دفاع اور بائیکار ٹیکنالوجیز کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر سے ملاقاتیں کیں

    آئی ایس پی آر کے مطابق ترک فضائیہ ہیڈکوارٹر آمد پر پاک فضائیہ کے سربراہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،ملاقاتوں میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ فضائی مشقوں اور تربیتی پروگراموں کو مزید فروغ دینے پر گفتگو ہوئی،ترک فضائیہ کے سربراہ نے ترک پائلٹس کی تربیت میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ترک وزیر دفاع کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ نے دفاع، تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ بائیکار ٹیکنالوجیز کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر سے ملاقات میں بغیر پائلٹ فضائی نظام اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔پاکستان اور ترکیہ نے اگلی نسل کی دفاعی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔