غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں فلسطینی فٹبالر اور گول کیپر سلیم الاشقر شہید ہو گئے، جبکہ ان کی شہادت پر عالمی فٹبال تنظیم فیفا کی خاموشی کو مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے رواں ہفتے کے آغاز میں سلیم الاشقر کی شہادت کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق 32 سالہ گول کیپر کو خان یونس کے شمال مشرق میں واقع قصبے القارا میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے دوران گولی لگی، جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔سلیم الاشقر غزہ کے مختلف اسپورٹس کلبوں کی نمائندگی کر چکے تھے اور بطور گول کیپر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی شادی صرف پانچ ماہ قبل ہوئی تھی، جبکہ ان کی اہلیہ حاملہ ہیں اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کی منتظر ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سلیم الاشقر کی شہادت کے بعد کھیلوں کے حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی کھلاڑیوں کی ہلاکتوں پر مؤثر مؤقف اختیار کرے۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ کے دوران اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی کھلاڑی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ غزہ میں گزشتہ 22 ماہ کے دوران 662 فلسطینی کھلاڑیوں اور اسپورٹس عہدیداروں کی ہلاکت بھی رپورٹ کی گئی ہے۔
