امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینیئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکا اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے اس جنگ کے اخراجات کا باضابطہ تخمینہ سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کے کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بڑی رقم کا زیادہ تر حصہ اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان پر خرچ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ جاری آپریشنز اور دفاعی ضروریات ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قدر بڑے پیمانے پر اخراجات نہ صرف امریکا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جنگی اخراجات میں اضافہ اکثر دفاعی بجٹ میں تبدیلی اور دیگر شعبوں پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے مالی اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے، خاص طور پر اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی۔ اس کے علاوہ عالمی منڈیوں، خاص طور پر توانائی کے شعبے پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا امکان ہے۔
ایران جنگ پر امریکا کے 25 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون کا انکشاف
