ایرانی پارلیمنٹ کے سینئر رکن علاؤ الدین بروجردی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس دشمن کے خلاف طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی مکمل فوجی صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کیا اور کئی اہم دفاعی صلاحیتیں اب بھی خفیہ ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بروجردی نے بتایا کہ ایران کے پاس موجود اسلحہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ وہ برسوں تک جنگی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران نے اپنی تمام تر طاقت استعمال نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے پاس مزید صلاحیت بھی موجود ہے۔
انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ اس وقت تقریباً 120 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب گزرنے کے منتظر ہیں، جبکہ کئی ایرانی جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے سمندری راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے جا سکے۔
بروجردی نے باب المندب کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ راستہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملاتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عالمی بحری راستوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ایران کے پاس طویل جنگ کیلئے وسیع میزائل و ڈرون ذخائر موجود
