آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے، جبکہ امریکی خام تیل بھی 104 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بندش عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے بھی یہی خدشات بڑھا دیے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اس غیر یقینی صورتحال کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی حالات کس طرح مقامی مالیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل میں اضافہ اور مہنگائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز بندش، تیل مہنگا اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ متاثر
