Baaghi TV

یروشلم میں اسرائیلی سڑکوں پر،ٹرمپ سے نیتن یاہو کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم میں ہفتہ کے روز مظاہرین نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کی حمایت ختم کرے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق درجنوں افراد نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے لیے پیغامات درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے امریکا اور اسرائیل کے اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔مظاہرین کے نعروں میں “دوبارہ دھوکہ نہ کھائیں” اور “انہوں نے آپ کو غزہ اور ایران کے معاملے پر گمراہ کیا” جیسے جملے شامل تھے۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سابق نائب سربراہ نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ایک “فوری پیغام” دینا چاہتے ہیں کہ وہ “غلط گھوڑے پر شرط لگا رہے ہیں” اور نیتن یاہو کو ایک کمزور اور ناکام سیاستدان قرار دیا۔

مظاہرے میں شریک 11 سالہ بچے یارون نے بھی نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “انہیں ہمارے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں، وہ صرف اقتدار میں رہنے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔”

یہ احتجاج اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی رہائش گاہ کے باہر کیا گیا، جو نیتن یاہو کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ارجنٹائن کے صدر کے دورۂ اسرائیل کے دوران ہکابی نے نیتن یاہو اور ملیئی کو صدر ٹرمپ کے قریبی ترین عالمی رہنماؤں میں شمار کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے آغاز پر اسرائیلی عوام کی اکثریت نے اس کی حمایت کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اپریل کے وسط میں ہونے والے مختلف سرویز کے مطابق اب زیادہ تر اسرائیلی اس جنگ کو کامیاب نہیں سمجھتے۔ابتدائی طور پر ایران جنگ کے خلاف مظاہرے محدود تھے، تاہم اب ان کا دائرہ اور شدت دونوں بڑھ رہی ہیں، جو اسرائیلی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔

More posts