امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو مکمل طور پر صاف کرنے میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ کارروائی فوری طور پر شروع ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اس کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خاتمے پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، سمندری راستوں کی مکمل بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بارودی سرنگوں کی صفائی ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس میں طویل وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی۔ اگر تنازع طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات سال کے آخر تک یا اس کے بعد بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے بغیر نہ صرف سمندری تجارت متاثر ہوگی بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک تک پہنچیں گے۔
آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں
