ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ وعدوں کی خلاف ورزی، اقتصادی و بحری ناکہ بندی اور مسلسل دھمکیاں حقیقی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا حامی رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں اعتماد کا فقدان ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری آپ کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد کو دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس طرز عمل نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا ہے اور اعتماد سازی کے امکانات کو کمزور کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابل قبول ہو سکتی ہے جب سمندری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔
ایرانی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تنازع کے حل کا واحد راستہ ایران کے قومی حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یکطرفہ دباؤ، پابندیاں اور طاقت کا استعمال مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ادھر ایرانی صدارتی دفتر نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا ہے جن میں قیادت کے اندر اختلافات کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ نائب ترجمان کے مطابق ایرانی قیادت مکمل طور پر متحد ہے اور دشمن عناصر کی جانب سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔
ایران کا مؤقف، وعدہ خلافی اور ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ
