Baaghi TV

لندن میں غیر قانونی کرپٹو ٹریڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 مقامات پر چھاپے

لندن: برطانیہ کے مالیاتی نگران ادارے ایف سی اے نے غیر رجسٹرڈ افراد کی جانب سے مبینہ غیر قانونی کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت لندن میں 8 مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ یہ کارروائی پولیس اور کسٹمز حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی، جو اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

ایف سی اے کے مطابق گزشتہ ہفتے ان تمام مقامات پر "سیز اینڈ ڈسسٹ” نوٹسز جاری کیے گئے اور اہم شواہد بھی اکٹھے کیے گئے، جو جاری تحقیقات میں استعمال ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ میں غیر مجاز کرپٹو سرگرمیوں کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ستمبر 2027 سے اس شعبے کے لیے مزید جامع قوانین نافذ کیے جانے والے ہیں۔ایف سی اے کے قوانین کے مطابق 2020 سے کرپٹو ٹریڈنگ خدمات فراہم کرنے والے تمام اداروں اور افراد کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں اس وقت کوئی بھی پیئر ٹو پیئر (P2P) کرپٹو ٹریڈر یا پلیٹ فارم رجسٹرڈ نہیں ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چھاپوں کا نشانہ بننے والے افراد پیئر ٹو پیئر ٹریڈنگ میں ملوث تھے، جس میں کرپٹو اثاثے براہ راست افراد کے درمیان خرید و فروخت کیے جاتے ہیں، بغیر کسی مرکزی ایکسچینج کے۔
ایف سی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹر اسٹیو اسمارٹ کا کہنا تھا کہ "برطانیہ میں غیر رجسٹرڈ پیئر ٹو پیئر کرپٹو ٹریڈرز غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور مالی جرائم کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔ ہم اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔”حکام کے مطابق ان مبینہ غیر قانونی ٹریڈرز کا سراغ "مارکیٹ انٹیلی جنس” اور دیگر اداروں کے تعاون سے لگایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کرپٹو کرنسیز کو جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے غیر قانونی رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ کرپٹو اثاثے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ایف سی اے نے برطانیہ میں پہلی مرتبہ کرپٹو اے ٹی ایم نیٹ ورک چلانے کے جرم میں ایک ملزم کو سزا دلوائی تھی، جسے عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی تھی

More posts