کراچی: شہر میں ٹماٹر کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک کلو ٹماٹر 300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں رسد کم ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔
سابق نائب صدر کراچی چیمبر یونس سومرو کے مطابق سندھ میں ٹماٹر کی نئی فصل کی پنیری تیار ہو چکی ہے اور جولائی کے دوران اس کی کاشت کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے باعث 10 سے 20 فیصد پودوں کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم کاشتکار ہر سال یہ خطرہ مول لیتے ہیں تاکہ فصل کی پیداوار جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی فصل نومبر تک مختلف مراحل میں لگائی جاتی ہے جبکہ اس کی پیداوار اپریل تک جاری رہتی ہے۔ عام طور پر مئی اور جون میں قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، لیکن جولائی کے ابتدائی دنوں میں پرانی فصل ختم ہونے اور نئی فصل مارکیٹ میں نہ آنے کے باعث عارضی قلت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
یونس سومرو کے مطابق مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا موسم جدید اور کنٹرول ماحول میں سال بھر ٹماٹر کی پیداوار کے لیے موزوں ہے، تاہم اس کے لیے سرمایہ کاری اور جدید زرعی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر اور سندھ حکومت کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ جدید زرعی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو نجی شعبہ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبوں پر کام کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف سستے قرضوں کے بجائے شراکت داری پر مبنی جدید زرعی نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جہاں منافع اور نقصان دونوں میں شراکت ہو۔ ان کے مطابق خوراک کی قلت کے خدشات سے نمٹنے کا واحد مؤثر حل زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔
کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ
