Baaghi TV


چین نے 20 جاپانی کمپنیوں اور اداروں کو برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا

‎چین نے جاپان کے ساتھ جاری تجارتی اور سفارتی کشیدگی کے دوران 20 جاپانی تنظیموں اور کمپنیوں کو اپنی برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ایسے سامان کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے مزید 20 جاپانی اداروں کو واچ لسٹ میں بھی شامل کیا ہے۔ واچ لسٹ میں شامل کمپنیوں کو چین سے حساس اشیاء درآمد کرنے سے قبل اضافی جانچ پڑتال اور متعلقہ ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
‎چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ، برآمدی کنٹرول کے مؤثر نفاذ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے کیے گئے ہیں۔ وزارت تجارت کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد عام تجارتی تعلقات کو متاثر کرنا نہیں بلکہ حساس ٹیکنالوجی اور اشیاء کی منتقلی کو منظم بنانا ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال جاپانی وزیراعظم کے تائیوان سے متعلق بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ جاپانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو ٹوکیو فوجی ردعمل پر غور کر سکتا ہے، جس پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
‎خبر ایجنسی کے مطابق چین اس سے قبل بھی فروری میں درجنوں جاپانی کمپنیوں پر اسی نوعیت کی برآمدی پابندیاں عائد کر چکا ہے، جبکہ حالیہ اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور تزویراتی کشیدگی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

More posts