Baaghi TV

Blog

  • منگھوپیر مقابلہ، پولیس اہلکار شہید

    منگھوپیر مقابلہ، پولیس اہلکار شہید

    ‎کراچی کے علاقے منگھوپیر میں نہر کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل سوار مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی، جس پر ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار خادم شہید جبکہ اہلکار طفیل زخمی ہو گیا۔ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے تیس بور اور نائن ایم ایم پستول کے خول ملے ہیں، جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکار کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
    ‎واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اہلکار کی شہادت میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
    ‎انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے اور جامع تفتیش کے ذریعے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

  • عاصم منیر کی ایران میں اہم ملاقات، دفاعی تعاون پر بات چیت

    عاصم منیر کی ایران میں اہم ملاقات، دفاعی تعاون پر بات چیت

    ‎فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں انہوں نے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبداللہی سے اہم ملاقات کی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ امور، علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کو موجودہ علاقائی تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی گفتگو ہوئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، لہٰذا پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی رابطے نہایت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ملاقاتیں نہ صرف دفاعی تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
    ‎یہ دورہ پاک ایران تعلقات میں مزید بہتری اور خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • اسرائیل لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق: ٹرمپ

    اسرائیل لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق: ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ یہ جنگ بندی منگل کی شام ایسٹرن ٹائم کے مطابق 5 بجے سے نافذ العمل ہوگی۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس عارضی وقفے سے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی دونوں فریقین کو سفارتی راستہ اختیار کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کے مستقل امن میں تبدیل ہونے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس دوران مثبت پیش رفت ہوئی تو خطے میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، بصورت دیگر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے اور عالمی برادری مسلسل امن کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

  • امریکی ناکہ بندی کے بعد 13 جہاز واپس مڑ گئے

    امریکی ناکہ بندی کے بعد 13 جہاز واپس مڑ گئے

    ‎امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد 13 جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق جنرل ڈین کین نے بریفنگ کے دوران خلیج کا ایک نقشہ بھی پیش کیا، جس میں نیلے اور سرخ رنگ کے ذریعے جہازوں کی پوزیشن کو واضح کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ناکہ بندی شروع ہونے کے 24 گھنٹے بعد کی عکاسی کرتی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ 13 جہازوں نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے دانشمندانہ فیصلہ کیا اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے بجائے واپس لوٹ گئے۔ جنرل کین کے مطابق اس اقدام سے کشیدگی میں اضافے سے بچنے میں مدد ملی۔
    ‎امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی جہاز ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تاہم اب تک امریکی سینٹرل کمانڈ کو کسی بھی جہاز پر چڑھ کر کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق بحری ناکہ بندی کے فوری اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کو بڑھا سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔

  • پنجاب میں پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    پنجاب میں پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    ‎پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صحت اور ماحول کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت نے کہا ہے کہ حکومت پلاسٹک تھیلوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے کیونکہ یہ نہ صرف فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں اور مختلف بیماریوں، حتیٰ کہ کینسر جیسے مسائل سے بھی منسلک ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر سستے اور ماحول دوست کاغذی تھیلے دستیاب ہیں، جن کے استعمال کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ پنجاب کو مکمل طور پر پلاسٹک فری زون بنایا جائے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال ماحولیاتی آلودگی، نکاسی آب کے مسائل اور زمین کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جس کے باعث ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف ماحول بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔

  • لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں

    لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں

    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان جاری جنگ بندی مذاکرات کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، لہٰذا وہاں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور قیامِ امن ناگزیر ہے۔
    ‎اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا، تاہم نہ کوئی بڑا بریک تھرو سامنے آیا اور نہ ہی مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “نہ بریک تھرو نہ بریک ڈاؤن” قرار دیا۔
    ‎ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل اور سنجیدہ مذاکرات ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر یہ سفارتی عمل 24 گھنٹوں سے بھی زائد جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فریقین کے عزم اور سنجیدگی کو سراہا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس امن عمل میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تہران و واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور وفود کے تبادلے بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔
    ‎ترجمان نے واضح کیا کہ سفارتی رابطوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ اعتماد اور رازداری برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان معلومات کو شیئر کیا جائے تو یہ اعتماد کے منافی ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے دوست ممالک اور عالمی طاقتوں، بشمول روس، سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے امن عمل کی حمایت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم بھی کیا۔
    ‎ترجمان نے آئندہ مذاکرات کی تاریخ سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

  • ایران کا دعویٰ، ڈرون پیداوار میں 10 گنا اضافہ

    ایران کا دعویٰ، ڈرون پیداوار میں 10 گنا اضافہ

    ‎ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس جون میں ہونے والی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے اپنی ڈرون پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
    ‎ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران ایران نے حملہ آور ڈرونز کی پیداوار میں 10 گنا اضافہ کیا ہے، جو دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
    ‎بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ کے مطابق ایران نے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر لی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات نے ایران کی عسکری حکمت عملی کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں اب ایران دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور فوری و مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی میں اس طرح کا اضافہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے دفاعی حکمت عملیوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی توجہ اس صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہے۔

  • آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان

    آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان

    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا ہے کہ آج رات سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے گی، جس سے عوام کو فوری ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور لوڈشیڈنگ کے باعث ہونے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور آج رات سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد اور کے الیکٹرک کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے ریکارڈ 2100 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق اس وقت ملک کو تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔
    ‎اویس لغاری نے بتایا کہ اس شارٹ فال کی بڑی وجوہات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث گیس کی فراہمی میں رکاوٹ اور پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1600 میگاواٹ کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے بھی 3000 میگاواٹ سے زائد کمی ہوئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی اور سولر کے فروغ پر کام کر رہی ہے، تاہم موجودہ بحران عارضی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق فرنس آئل سے 1400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ قلت کو کم کیا جا سکے۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اپریل میں بجلی کی طلب 9 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار میگاواٹ تک رہی، اور جب طلب ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرتی ہے تو لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہونے اور ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ فرنس آئل کے استعمال سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً 1 روپے 30 پیسے فی یونٹ تک جا سکتا ہے۔

  • لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    توانائی بحران: عوام کی آزمائش یا حکومتی ناکامی؟
    بجلی، گیس اور بے بسی: نظام کب بدلے گا؟
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بنیادی ہیں، اور ان کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی، صحت اور معیشت پر پڑتا ہے۔ لیکن اس معاملے کو صرف یہ کہہ کر ختم کر دینا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ایک دن یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔

    یہ ماننا پڑے گا کہ ہر سال گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وہی پرانے وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ بیانات دیے جاتے ہیں، تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ شدید گرمی میں بجلی کی بندش نہ صرف اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ اسپتالوں، گھروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ گیس کی قلت سردیوں میں الگ مصیبت بن کر سامنے آتی ہے۔ ایسے میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔

    تاہم اصل مسئلہ محض ایک حکومت یا چند سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔ توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی پالیسیوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے نہ صرف تسلسل ختم ہوتا ہے بلکہ وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے مسائل بھی اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔

    اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے متبادل ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا۔ یہی واحد راستہ ہے جو نہ صرف بجلی کو سستا بنا سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ساتھ ہی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب تک اداروں میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک بہترین منصوبے بھی کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کو محض وعدوں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہوگا۔

    جمہوریت ایک خوبصورت نظام ہے، مگر اس کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب یہ عوامی مسائل کو حل کرے اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لائے۔ اگر بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں محض الزام تراشی سے آگے بڑھ کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تاکہ عوام کو اس دیرینہ مسئلے سے حقیقی نجات مل سکے۔

  • ایران کا پاکستان پر اعتماد، مذاکرات صرف اسلام آباد میں ہوں گے

    ایران کا پاکستان پر اعتماد، مذاکرات صرف اسلام آباد میں ہوں گے

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے اور ایران کسی اور مقام پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پاکستان پر اعتماد کرتا ہے جبکہ امریکا کو قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتا۔
    ‎اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اسی لیے ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن کے لیے کردار کو سراہا۔
    ‎رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی بھی ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تصدیق کر چکی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور گزشتہ 47 برسوں میں امریکا اور صیہونی قوتوں کا دباؤ برداشت کیا، مگر ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہا۔
    ‎ایرانی سفیر نے اسرائیل پر خطے میں بالادستی کی خواہش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے اچانک حملوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ نقصانات کے باوجود ایرانی قوم متحد اور مضبوط ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔