تل ابیب: اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ سے اب تک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر 7 ہزار سے زائد راکٹ، میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔
تل ابیب میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گدعون ساعر نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان چند سرحدی معاملات کے علاوہ کوئی بڑا تنازع موجود نہیں، اور ان مسائل کو مختصر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حزب اللہ کو اسرائیل اور لبنان دونوں کا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم نے مارچ کے آغاز میں کشیدگی میں اضافہ کیا۔ ان کے مطابق حزب اللہ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں راکٹ حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر کسی بھی ملک کے شہروں پر مسلسل راکٹ اور ڈرون حملے کیے جائیں تو وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد اپنے شہریوں کی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں استحکام کی بحالی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ مذاکرات میں سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی معاملات اور حزب اللہ کی سرگرمیوں سمیت مختلف امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
حزب اللہ نے مارچ سے اب تک اسرائیل پر 7 ہزار سے زائد حملے کیے، اسرائیلی وزیر خارجہ
