کراچی: ایل پی جی کی سرکاری قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں منافع خور مافیا متحرک ہو گیا ہے اور سرکاری نرخ 306 روپے 76 پیسے فی کلو کے بجائے گیس 400 روپے فی کلو سے زائد میں فروخت کی جا رہی ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی نئی قیمت مقرر کی تھی، تاہم مختلف شہروں میں دکانداروں اور ڈسٹری بیوٹرز نے سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال نے پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً کراچی میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں گھریلو صارفین ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس دستیاب نہیں اور دوسری طرف ایل پی جی کی قیمتیں ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
مہنگی ایل پی جی کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں بلکہ رکشا ڈرائیورز، چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کے بڑھتے اخراجات نے ان کی آمدنی اور روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عوام کا مؤقف ہے کہ کھلے عام منافع خوری کے باوجود مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی، جس سے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع کمانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں پر سخت نگرانی کی جائے، سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور منافع خور عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
ایل پی جی مہنگی ہوتے ہی منافع خور سرگرم
