Baaghi TV

قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے

Parliment

قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے آ گئے

سپیکر قومی ایاز صادق نےاپوزیشن لیڈر کو آج بھی سخت جواب دیا ہے،ایاز صادق نے کہا کہ 98 میں پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی،2001 کو ن لیگ جوائن کی تھی۔ اقتدار کی پارٹی کو جوائن نہیں کیا تھا اسے جوائن کیا جو مشکل میں تھی ،آپ نے مجھ پر بات کی اور کہا تم حوالدار ہو ، میں دو حوالداروں کو جانتا ہوں ،ایک بارڈر والے اور دوسرا چوروں ڈاکوں منشیات فروشوں کو پکڑتا ہے ،میں بھی ایک انسان ہوں، ہم ایک لائن ڈرا کر دیتے ہیں ،یہ عہدہ یا ایم این اے شپ تاحیات نہیں،نہیں معلوم کب تک سپیکر ہوں ،کسی کی دل آزاری کی بات نہیں کرتا،آپ کا جتنا وقت تھا اس سے دو گنا دیا ،67 اپوزیشن ارکان بولے،آپ لوگوں پر پینا ڈال والا افیکٹ ہوتا ہے،آپ لوگوں پر تین چار گھنٹے میں اثر اتر جاتا ہے ، باہر جا کر کہتے ہیں سپیکر بولنے نہیں دیتا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان میں دلچسپ نوک جھونک ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتا ہوں،میں مولانا فضل الرحمان کے پاس جاتا رہتا ہوں، جو میری ان کے ساتھ تخلیہ میں گفتگو ہوئی ہے وہ ہمیشہ میرے سینے میں راز کی طرح رہے گی، جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میری آج تک جو بھی گفتگو ہوئی ہے میں اجازت دیتا ہوں وزیر اعظم بتا دیں،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کی اجازت کے باوجود نہیں یہ باتیں سامنے نہیں لاؤں گا،کیونکہ اگر میں نے یہ باتیں کر دیں تو بات بہت آگے تک چلی جائے گی .

مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے،رانا ثناء اللہ
قومی اسمبلی اجلاس میں ن لیگی رکن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی بات کی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں،میں چند حقائق مولانا فضل الرحمان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے تھے،وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی، ہم مظفر آباد جا کر ان سے مذاکرات کر چکے ہیں، بجلی کے ریٹ سے متعلق وزیراعظم نے فوری طور پر مطالبہ منظور کیا، گندم پر 2000 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، ہسپتالوں میں مختلف مشینوں کے حوالے سے مطالبات بھی منظور کیے گئے، مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے،اس حوالے سے 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیا، 9 جون کے احتجاج کا اعلان انتخابات کو روکنے کے لیے تھا،

More posts