Baaghi TV

خواجہ آصف کے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے،مولانا فضل الرحمان

fazal

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں اور صورتحال کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اپنا آئندہ لائحہ عمل دینا تھا، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ خط موصول ہوا تھا جسے حکومت کو بھجوا دیا گیا، لیکن اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ راولاکوٹ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا جائزہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض تقاریر کی بنیاد پر مظاہرین کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد کی طرف اعلان کردہ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت ہے جس سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ایک ذمہ دار وزیر کو زیب نہیں دیتے اور ان سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایک طرف مصالحت کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو دی گئی ہے جبکہ دوسری طرف سخت بیانات دیے جا رہے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔اپوزیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) نے چارسدہ میں لاکھوں افراد کا اجتماع منعقد کیا اور حکومتی جماعتیں بھی ایسے عوامی اجتماعات کر کے دکھائیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں تحمل، برداشت اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا ردِعمل جذباتی ہوگا تو یہ اس کے منصب اور ذمہ داریوں کے شایانِ شان نہیں ہوگا۔

More posts