ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک امریکی ایف 15 فائٹر طیارے کے پائلٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بننے سے قبل اس نے ایرانی ڈرونز کی ایک غیر معمولی اور جدید فارمیشن دیکھی، جسے اس نے "جیلی فش” سے تشبیہ دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پائلٹ نے بتایا کہ فضاء میں ایک بڑا ڈرون موجود تھا جبکہ اس کے گرد متعدد چھوٹے ڈرون اس انداز میں پرواز کر رہے تھے کہ وہ جیلی فش کی ٹانگوں جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے فضا میں ڈرونز پر مشتمل ایک بارودی سرنگ بچھا دی گئی ہو۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ایف 15 طیارہ اپریل میں ایرانی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے وقت طیارے میں موجود دونوں پائلٹ ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے تھے، جنہیں بعد ازاں امریکی اسپیشل فورسز نے خصوصی آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا تھا۔
پائلٹ کے اس بیان کے بعد امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی جنگی حکمت عملی میں نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی تعاون سے فائدہ اٹھایا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اب تک امریکی یا ایرانی حکام کی جانب سے پائلٹ کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دفاعی ماہرین اس معاملے کو مزید تحقیق اور تصدیق کا متقاضی قرار دے رہے ہیں۔
تباہ شدہ ایف 15 طیارے کے فائٹر پائلٹ کا انکشاف
