یہ ہمارے لیے بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ذہنی غلامی میں جی رہے ہیں۔ یہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذہانت اور لائق ہونے کی دلیل انگریزی زبان میں مہارت کو سمجھا جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب برصغیر میں انگریز تجارت کی غرض سے آئے اور اپنے قدم جمانے کے لیے انہوں نے مقامی زبان سیکھنے کی خاطر فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی۔ مترجمین اور مصنفین کو تلاش کیا گیا اور منشی مقرر کیے گئے۔
اس طرح انتھک محنتوں اور قربانیوں کے بعد برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ہم آزاد ہوئے تو ہمارے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں وہ غلامی ٹھہر سی گئی، جو انگریزوں کے دور میں تھی۔ آج 79 سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ذہنوں میں وہ غلامی موجود ہے۔
ذہنی پستی کی انتہا ہے کہ ایک باشعور انسان اپنی قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی زبان کو ترجیح دیتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے کالجوں کے انگریزی داں پروفیسر صاحبان شعبۂ اردو کے طلبہ کو نالائق کہا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب ہم اردو کی طالبات تھیں اور اکثر لائبریری جاتے ہوئے یا لائبریری میں موجود ہوتے تو پروفیسر ولی اللہ مروت، جو غالباً Lucky English Guide کے مصنف ہیں، اکثر ہم سے ایک بات کہا کرتے تھے:
"اردو ڈیپارٹمنٹ نالائق ہے، آپ لوگوں کا لائبریری میں کیا کام ہے؟ اردو والے نہایت نالائق ہوتے ہیں۔”
چونکہ وہ نظم و ضبط کے نگران استاد (Discipline Teacher) بھی تھے، اس لیے ہم خاموش ہو جاتے تھے، لیکن شعبۂ اردو کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہمارا سوال ہوتا کہ اپنی قومی زبان پڑھنے والے نالائق کیوں کہلائے جاتے ہیں؟
انگریزی والے صرف انگریزی زبان پر اتراتے ہیں، حالانکہ انگریزی ایک فرنگی زبان ہے اور اس میں مہارت حاصل کرنا اتنی بڑی بات نہیں۔
جس زبان میں آپ بول رہے ہیں، جو زبان آپ کے لیے اس معاشرے میں ابلاغ کا ذریعہ بنی، آج اسی زبان کو کمتر سمجھنا اور کہنا بڑی زیادتی ہے۔ انگریزی زبان کو بطور ایک زبان ضرور سیکھنا چاہیے، لیکن اس کی تقلید میں اپنی شناخت کو نہیں کھونا چاہیے۔
المیہ یہ ہے کہ تمام سرکاری اور دفتری کام انگریزی میں ہوتے ہیں۔
چونکہ بی ایس مکمل ہونے کے بعد ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم، یعنی ذریعہ، نہ ملا جہاں ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے، یا کوئی ایسی خاص سمت جو واقعی ہم اردو والوں کے لیے ہو، تو ایک دوست کے توسط سے جب "عمارہ کنول صاحبہ” سے رابطہ ہوا اور میں "تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس” میں شامل ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ اردو والوں کا دائرۂ کار تو بہت وسیع ہے۔
ہم نے اردو ادب میں تحاریک پڑھی ہیں، اور جب میں اس حلقے کا تحریک کے نام سے ذکر کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں عمارہ کنول صاحبہ کی محنت ضرور رنگ لائے گی اور اردو کا نفاذ ہوگا۔ وہ دن دور نہیں جب ہمارا ملک اور اس کے باشندے اپنی قومی زبان پر فخر کریں گے۔
اس جدت، ترقی اور مصروف ترین زندگی میں سے بیش بہا قیمتی وقت جو عمارہ کنول صاحبہ اس تحریک کو دے رہی ہیں، ان شاء اللہ وہ ضائع نہیں جائے گا۔
میں حیران بھی ہوں اور خوش بھی کہ کوئی ایسا ہے جو اردو زبان سے اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ تمام اردو والوں کو جوڑے رکھنے کی نہ صرف کوشش کر رہا ہے بلکہ پُرامید بھی ہے کہ اردو کا نفاذ ہوگا۔ میرا یقین ہے کہ ہم اردو والے اس تحریک کو عمارہ صاحبہ کی محنت، اخلاص اور لگن کے باعث کامیاب ہوتا دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔
