کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے ایک چھوٹے سے قصبے نے درختوں کو باقاعدہ طور پر زندہ مخلوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ کرلیا ہے۔
کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے قصبے ٹیراس-ووڈروئل (Terrasse-Vaudreuil) نے 9 جون 2026 کو ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، جس کے تحت درختوں کو باقاعدہ طور پر زندہ مخلوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں،اس چھوٹے سے قصبے نے بین الاقوامی ماحولیاتی مہم "یونیورسل ڈیکلریشن آف دی رائٹس آف دی ٹری” (Universal Declaration of the Rights of the Tree) کی باقاعدہ توثیق کی ہے کیوبیک اور کینیڈا میں اس طرح کا اعلان کرنے والا یہ پہلا قصبہ ہے-
قصبے Terrasse-Vaudreuil کی میونسپل کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت درختوں کے ’حقِ زندگی، قدرتی نشوونما، جسمانی سالمیت اور دوبارہ افزائش‘ کو تسلیم کیا گیا ہے، اس اقدام کے ساتھ یہ کینیڈا کی پہلی بلدیہ بن گئی ہے جس نے درختوں کے حقوق کے عالمی اعلامیے کی حمایت بھی کی ہے،قرارداد کے بعد مقامی انتظامیہ درختوں کے تحفظ سے متعلق اپنے قواعد و ضوابط کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اگر کسی درخت کو کاٹنا ناگزیر ہوا تو اس کے متبادل شجرکاری کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس تاریخی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانوں کو بقائے باہمی اور یکجہتی کے اصولوں کے تحت درختوں کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ کرہ ارض پر زندگی کا انصار انہی پر ہے، اس اقدام کی تحریک کیوبیک کے فلمساز آندرے ڈیسروچرز (Andre Desrochers) کی دستاویزی فلم سے حاصل کی گئی،اس عالمی پٹیشن پر اب تک دنیا بھر سے 87,000 سے زائد دستخط ہو چکے ہیں،یہ فیصلہ ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی حقوق (Rights of Nature) کے عالمی قانونی تحریک کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے۔
میئر مشیل بوردو کے مطابق درخت انسانی زندگی، ماحولیاتی تحفظ، فضائی آلودگی میں کمی، پانی کے بہتر انتظام اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ناگزیر ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو قانونی اور انتظامی سطح پر مزید مضبوط بنایا جائے گا،ماحولیاتی ماہرین نے اس فیصلے کو فطرت کے حقوق کے عالمی تصور کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔
