نام نہاد "وشو گرو” کے دعوے کرنے والے بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل سفارتی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اپنی بالادستی اور "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” بننے کا بھارتی خواب شدید دھچکوں سے دوچار ہو چکا ہے۔
بھارت کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسیوں کو حالیہ برسوں میں متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث عالمی منظرنامے میں اس کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کے ضامن کے طور پر خود کو پیش کرنے کی بھارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ اور جریدوں میں شائع ہونے والے تجزیوں کے مطابق انڈو پیسفک سے لے کر وسیع بحرالکاہل خطے تک بھارت کو تزویراتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ مختلف علاقائی اور عالمی معاملات میں اس کا کردار پہلے کی نسبت محدود ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی خارجہ ترجیحات میں تبدیلی اور خطے میں نئی حکمت عملیوں کے باعث بھارت اور امریکا کے درمیان نام نہاد اسٹریٹجک شراکت داری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب اپنے مفادات کے تحت مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو نئے انداز میں ترتیب دے رہا ہے، جس سے بھارت کی توقعات متاثر ہوئی ہیں۔دفاعی و تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں بھارت کے "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” ہونے کے دعوؤں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق نے ثابت کیا ہے کہ بھارت کو نہ صرف سفارتی بلکہ سیکیورٹی محاذ پر بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی نہ کی تو اسے مستقبل میں مزید سفارتی دباؤ، تزویراتی مشکلات اور عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
