ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتائج سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’بدعنوان‘ اور ’ناکام‘ ادارہ قرار دیا ہے
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مختلف تجزیہ کاروں کی آراء شامل تھیں رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ تقریباً چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد خطے میں عملی طور پر کیا تبدیلی آئی اور آیا ایران سے متعلق امریکا اور اسرائیل کے بنیادی خدشات واقعی ختم ہوئے ہیں یا نہیں۔
ٹرمپ نے اخبار کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکا نے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو عسکری میدان میں شکست دی ہے،بعض میڈیا ادارے حقائق کو نظر انداز کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نیویارک ٹائمز مسلسل ایسی رپورٹس شائع کرتا ہے جو ان کی حکومت اور پالیسیوں کو منفی انداز میں پیش کرتی ہیں۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی مذکورہ رپورٹ میں شامل بعض تجزیہ کاروں کا مؤقف تھا کہ جنگ کے باوجود مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی اور خطے میں کشیدگی کے کئی اسباب اب بھی موجود ہیں،سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ متعدد بار بڑے امریکی میڈیا اداروں پر جانبداری اور غلط رپورٹنگ کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
