وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اسکل اینہانسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام‘ (سحر) کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پنجاب بھر کی 5 ہزار 365 خواتین کو گھر بیٹھے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔
وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے پر 97 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی، جبکہ اس کا مقصد ہنرمند لیبر فورس میں خواتین کے تناسب میں اضافہ اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے پروگرام کے تحت دور دراز، نیم شہری اور شہری علاقوں کی خواتین کو بیوٹیفکیشن سروسز، ہاسپٹیلٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔
پنجاب ڈویلپمنٹ کونسل فار پلاننگ کے ذیلی ادارے آئی تھم کے اشتراک سےایک ہزار 260 خواتین کے لیے ہاسپٹیلٹی کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے،جن میں کلنری آرٹس، بیکنگ گیسٹ ریلیشنز، فرنٹ ڈیسک مینجمنٹ اور ایئر لائن مینجمنٹ کی تربیت شامل ہےلاہور،فیصل آباد،راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ میں ہاسپٹیلٹی ٹریننگ کورس کےپہلے بیچ کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔
اسی طرح نیل بار کے تعاون سے 4 اضلاع میں 2 ہزار 65 خواتین کے لیے بیوٹیفکیشن کورسز کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ہیر اسٹائلنگ، سکن کیئر، میک اپ اور نیل آرٹ کی تربیت دی جا رہی ہے،پروگرام کے تحت 2 ہزار 40 خواتین کو پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے اشتراک سے 6 ماہ پر مشتمل ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ دی جائے گی تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ ڈیوائس، ڈیٹا پیکج اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گاکورس میں دراز اور شوپی فائی سمیت ای کامرس، انگلش لینگویج، پراڈکٹ ریسرچ اور فنانشل لٹریسی کی تعلیم بھی شامل ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی عورت معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو نہ صرف صوبہ بلکہ پورا ملک ترقی کرے گا صوبے کی خواتین آبادی کو ایک قابلِ قدر اثاثہ بنایا جا رہا ہے اور پروگرام کا مقصد انہیں ترقی اور خود انحصاری کے مواقع فراہم کرنا ہے بیوہ، طلاق یافتہ اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پروگرام میں ترجیح دی جائے گی خواتین کے لیے پہلی مرتبہ گھر کی دہلیز پر ووکیشنل تربیت کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے اور تربیت مکمل کرنے والی خواتین آسانی سے روزگار حاصل کر کے معاشرے کا فعال اور مفید حصہ بن سکیں گی حکومت پنجاب ’سحر‘ پروگرام کے تحت تربیت یافتہ خواتین کے لیے جاب پلیسمنٹ کے مواقع بھی فراہم کرے گی، جبکہ اس اقدام کا ایک اہم مقصد صوبے میں صنفی مساوات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
