Baaghi TV

سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں،حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کا تقریباََ آدھا حصہ سود پر لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں چلے جانا ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے ۔ سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں اور نہ ہی ملک کے معاشی حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ سود معیشت کے لیے تباہ کن زہر ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہونے ملک پاکستان میں سودی نظام کا تسلسل ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ آج ملک کو جن سنگین معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور مالی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی بنیادی وجوہات میں سود پر مبنی معاشی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سودی قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر رہی ہے بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی قرضوں کا بوجھ منتقل کر رہی ہے۔ اگر سودی نظام سے نجات حاصل نہ کی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب قومی بجٹ کا سارا حصہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا اور عوامی خدمت کے شعبوں کے لیے خاطر خواہ وسائل دستیاب نہیں رہیں گے۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے حکومت، معاشی ماہرین اور پالیسی ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ سود سے پاک اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ ملکی خودمختاری، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کا راستہ سودی قرضوں پر انحصار کم کرنے، پیداواری شعبوں کو مضبوط بنانے اور اسلامی مالیاتی اصولوں کو فروغ دینے میں مضمر ہے۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ قوم کو قرض اور سود کے اس تباہ کن چکر سے نکالنے کے لیے فوری اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی راستہ ملک کو پائیدار ترقی، معاشی آزادی اور حقیقی عوامی خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

More posts