Baaghi TV

برطانیہ میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں

keir

لندن: برطانوی سیاست میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹارمر آج اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اب تک ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔

سیاسی بحران اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب اینڈی برنہم پارلیمنٹ میں رکن اسمبلی کے طور پر حلف اٹھانے کے لیے ویسٹ منسٹر واپس پہنچ گئے۔ برنہم نے حال ہی میں میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں نو ہزار سے زائد ووٹوں کی واضح برتری سے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ پہلے ہی لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے اسٹارمر کو چیلنج کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی برطانوی سیاسی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسٹارمر جلد مستعفی ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم امیگریشن اور توانائی جیسے اہم معاملات پر بری طرح ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کو شمالی سمندر میں تیل کی پیداوار بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اسٹارمر کے ممکنہ استعفے کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات ہونے کے شواہد موجود نہیں ہیں اور ان کا بیان محض سیاسی قیاس آرائی معلوم ہوتا ہے۔

برطانوی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے وزیراعظم سے نجی طور پر ملاقات میں کہا ہے کہ انہیں عہدہ چھوڑنے پر غور کرنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گفتگو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہوئی، جب اسٹارمر اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری دیہی رہائش گاہ چیکرز میں موجود تھے۔اگرچہ حکومت کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم اس خبر نے لیبر پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

کاروبار اور تجارت کے سیکریٹری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے جمعہ کے روز وزیراعظم سے کھل کر گفتگو کی تھی، تاہم ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں جن سے استعفے کی افواہوں کی تصدیق ہو سکے۔پیٹر کائل نے کہا کہ اسٹارمر اس وقت اپنی تمام تر توجہ حکومتی امور پر مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں قیادت کے کسی ممکنہ مقابلے پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا۔

سیاسی بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیبر پارٹی کے تقریباً ایک چوتھائی اراکین پارلیمنٹ اب کھل کر اسٹارمر کے خلاف سامنے آ چکے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق 100 لیبر بیک بینچ اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم اپنی رخصتی کے لیے واضح ٹائم لائن دیں۔اسٹارمر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والوں میں متعدد نمایاں لیبر ارکان شامل ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ پارٹی کو اگلے عام انتخابات سے قبل نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب لیبر پارٹی کے کئی ارکان اب بھی اسٹارمر کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس تمام صورتحال پر روسی حکام نے بھی طنزیہ ردعمل دیا ہے۔ کریملن کے سرمایہ کاری نمائندے نے سوشل میڈیا پر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق تبصرے کرتے ہوئے برطانوی سیاسی بحران کا مذاق اڑایا اور کہا کہ اس معاملے پر مختلف ممالک کے درمیان غیر معمولی اتفاق رائے دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ میں حکمران لیبر پارٹی اس وقت اپنی حکومت کے سب سے بڑے اندرونی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اگرچہ ڈاؤننگ اسٹریٹ مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہو رہے، تاہم پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت اور اینڈی برنہم کی واپسی نے اسٹارمر کی قیادت پر سوالات مزید گہرے کر دیے ہیں۔ اب تمام نظریں وزیراعظم کے آئندہ فیصلے اور لیبر پارٹی کے اندر ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر مرکوز ہیں

More posts