Baaghi TV

ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

ہائے افسوس! صد افسوس!اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سینیٹ میں غیر ملکی شراب درآمد کرنے کی پالیسی نرم کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں۔
روح تڑپتی ہے آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ یہ امر واقعی لمحہ فکریہ ہے ۔
اقبال نے کیا خوب کہا تھا
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اے ایوانوں میں بیٹھے لوگو! اے قوم کے فیصلے کرنے والو!
تمہارے ہاتھ کانپتے کیوں نہیں؟ تمہارے قلم لرزتے کیوں نہیں؟ خدارا یہ ظلم نہ کرو!
اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کے سامنے یہ کھلی سرکشی، یہ بغاوت یہ گستاخی اللہ کی قسم! عذاب کو دعوت ہے۔
شراب کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔
شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی۔ آخری اور قطعی حکم سورۃ المائدہ میں آیا:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
حوالہ: پارہ 7 سورۃ المائدہ آیت 90
احادیثِ مبارکہ مستند حوالوں کے ساتھ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شراب تمام برائیوں کی ماں ہے اور یہ سب سے زیادہ شرمناک برائی ہے۔”
حوالہ: سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب 30 حدیث 3371
مزید فرمایا: "جو چیز بڑی مقدار میں نشہ دے وہ حرام ہے وہ چھوٹی مقدار میں بھی حرام ہے۔”
حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 3392
حضور ﷺ نے شراب کے بارے میں 10 لوگوں پر لعنت فرمائی:
شراب بنانے والا
بنوانے والا
پینے والا
اٹھانے والا
جس کے پاس اٹھا کر لائی جائے
پلانے والا
بیچنے والا
اس کی قیمت کھانے والا
خریدنے والا
جس کے لیے خریدی جائے۔
حوالہ: جامع ترمذی، کتاب البیوع، حدیث 1299
ذرا تصور کریں مدینے کی ان گلیوں کا جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو اعلان سنتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ جس کے ہاتھ میں جو برتن تھا جس کے منہ میں جو گھونٹ تھا سب نے فوراً پھینک دیا۔ مدینہ کی گلیاں شراب سے بہہ پڑیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ "جو خریدی ہوئی ہے وہ ختم کر لیں” یا "آہستہ آہستہ چھوڑیں گے”۔ حکم آتے ہی مکمل اطاعت کی۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف تھا! کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رب کا حکم معیشت سے بڑا ہے، مصلحت سے بڑا ہے جان سے بڑا ہے!
اور آج ہم. ہم "ریونیو” کے لیے اپنی آخرت بیچنے کو تیار ہیں؟ ہم "ٹورازم” کے لیے اپنی نسلوں کو جہنم کا ایندھن بنانے کو تیار ہیں؟
تف ہے ایسی معیشت پر! لعنت ہے ایسے ٹورازم پر جو اللہ کے غضب کو دعوت دیں۔ اس قلم کی سیاہی سوکھنے سے پہلے اس دستخط کی روشنائی پھیلنے سے پہلے سوچ لو!
قبر کا گڑھا تمہارا منتظر ہے۔ وہاں نہ سینیٹ ہوگی نہ ایوان نہ پروٹوکول ہوگا نہ کرسی۔ صرف تم ہو گے اور تمہارے اعمال۔
اور حوضِ کوثر پر جب میرے آقا تمہارا دامن پکڑ کر پوچھیں گے: "میری امت کے بچوں کو شراب کے حوالے کر کے آئے ہو؟اس وقت کون سا منہ لے کر جاؤ گے؟
یا اللہ! یا رب العالمین!
اگر ان کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو انہیں ہدایت دے دے۔ اور اگر یہ تیرے حکم سے جنگ پر تلے ہیں، تو انہیں اس کرسی، اس ایوان، اس عہدے سے یوں محروم کر دے جیسے سوکھی ٹہنی درخت سے گرتی ہے۔
یا اللہ! اس پاکستان کو جسے ہم نے تیرے نام پر لیا تھا شراب کی لعنت سے، بے حیائی کی نحوست سے، تیرے غضب سے محفوظ فرما۔ ہمیں صحابہ والا ایمان عطا فرما کہ تیرا حکم آئے تو ہماری زبانیں، ہمارے ہاتھ، ہمارے قدم سب پکار اٹھیں: "سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر”۔

More posts