بھارت کی سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سینکڑوں حامیوں اور طلبہ نے بھارتی پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے امتحانی بے ضابطگیوں اور بار بار پرچہ لیک ہونے کے واقعات کے خلاف آواز بلند کی اور تھالیاں بجا کہ انوکھے انداز سے شدید احتجاج کیا، احتجاج کے دوران شرکا نے اسٹیل کی تھالیاں اور چمچ بجا کر حکومت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا،اس مظاہرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے،کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دپکےنے حامیوں سے احتجاج میں تھالیاں اور چمچ لانے کی اپیل کی تھی۔
احتجاج کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے پولیس نے مظاہرے کی نگرانی کے لیے کیمرے اور ڈرونز استعمال کیے جبکہ پارلیمنٹ کے اطراف اضافی نفری تعینات کی گئی،مظاہرین کی جانب سے تھالیاں بجانے کو وزیر اعظم مودی کے اُس اقدام پر طنز قرار دیا جا رہا ہے جب انہوں نے 2020 میں کووڈ۔19 وبا کے دوران عوام سے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گھروں کی بالکونیوں اور چھتوں پر برتن بجانے کی اپیل کی تھی۔
ابھیشیک دپکے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان نامی وائرس کو ختم کرنا ضروری ہے اگر وزیرِ تعلیم مستعفی ہو جائیں تو پارٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے پارٹی کے ایک حامی دیپک کمار نے کہا کہ یہ تو صرف آغاز ہے اگر دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہ دیا یا اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ احتجاج یہیں ختم نہیں ہوگا۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ قومی سطح کے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے کے مبینہ لیک ہونے کے بعد شروع ہونے والے تنازع سے جڑا ہوا ہے الزام ہے کہ امتحانی پرچہ سوشل میڈیا ایپ ٹیلیگرام کے ذریعے پھیلایا گیا تھا واقعے کے بعد حکام نے امتحان ملتوی کر دیا تھا جبکہ ٹیلیگرام پر عارضی پابندی بھی عائد کی گئی حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقا ت جار ی ہیں اور امتحان اتوار کو منعقد کیا جائے گا۔
