Baaghi TV

یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

آج فادرز ڈے ہے ابو…
وہ دن جب ساری دنیا کے باپ اپنی بیٹیوں کی ہنسی میں جیتے ہیں۔ اور میں؟ میں آپ کی یادوں سے لپٹ کر رو رہی ہوں۔ "کتابِ زندگی کا وہ اداس ترین صفحہ جسے پلٹتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل اتنا بوجھل ہو جاتا ہے کہ سانس لینا بھی اذیت لگتا ہے۔ ابو شہرِ محبتاں سے ہجرت اور یتیمی کے 5 سال یہ دو سانحے ایک ہی دن میرے مقدر میں لکھ دیے گئے۔بچھڑ جانے والوں پر صبر کرنایہ صبر نہیں بلکہ پل پل مرنا ہے۔ آپ کے بنا 5 سال نہیں گزرے 5 صدیاں بیت گئیں ہیں۔ ہر دن ایک صدی جیسا بھاری، ہر رات قیامت جیسی لمبی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں نے دکھوں کے ساتھ ایک نہیں کئی عمریں گزار دی ہوں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جیسے کچھ بھی نہیں ہے۔
"ماں کی جمع مائیں ہوتی ہے، مگر باپ کی جمع نہیں ہوتی۔”

میں نے باپ کے سارے نام سوچے والد، ابا، باپ، ابو لیکن کسی ایک لفظ کی بھی جمع نہیں مل سکی! کیونکہ زندگی میں ماں کے رشتے پر بہت سے رشتے جڑے ہوتے ہیں خالہ، پھوپھو، ساس سب ماں جیسی ہو سکتی ہیں۔

لیکن باپ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔اسی لیے اس کی کمی کا خلاء کبھی پر نہیں ہوتا۔ آج شبِ غم نے دکھوں کی سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ہر طرف نوحہ ہے، بین ہے، ماتم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کربلا کا کوئی منظر میرے سینے میں دہرایا جا رہا ہو۔ زخم ہیں کہ بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ زندگی کی رونقیں آپ کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں ابو اب تو سانسیں بھی اداس ہیں اور میں بھی۔ لمحے، پل، منٹ، گھنٹے، دن، مہینے اور یتیمی کے یہ 5 سال اللہ! کیسی کٹھن مسافت تھی۔ کانٹوں پر ننگے پاؤں چلنے جیسی۔ 5 برس سے میرا وجود زمین و آسمان کے درمیان معلق ہے۔ نہ جینے میں ہوں نہ مرنے میں۔ قدموں کے نیچے سے زمین آپ کے ساتھ ہی کھسک گئی تھی۔ دل شکستہ ہے روح زخمی ہے یوں لگتا ہے جیسے میں خود اپنے آپ پر بوجھ ہوں۔
ابو 5 سال پہلے تک ہنسی کا مطلب ہنسی تھا، عید کا مطلب عید تھا۔ کیوں؟ کیونکہ "باپ” کا سایۂ شفقت سر پر تاج کی طرح سجا تھا۔ "باپ” لفظ نہیں، ایک پوری کائنات ہے۔ اس میں محبت کی گرمی ہے، شفقت کی ٹھنڈک ہے، لاڈ کی نرمی ہے، ایثار کا سمندر ہے اور بے لوث حفاظت کا آہنی حصار ہے۔ آپ میرا مان تھے، میرا غرور تھے۔ میرا پہلا لفظ، میرا پہلا ہیرو، میری پہلی محبت، میری دھڑکن۔ وہ مضبوط دیوار تھے جو زمانے کے ہر طوفان کے آگے ڈھال بن جاتی تھی۔
مگر جب بیٹی کا باپ چلا جاتا ہے نا ابوتو دنیا کی ساری روشنیاں بجھ جاتی ہیں۔ رنگوں سے خوشبو اڑ جاتی ہے۔ ہونٹ ہنستے ہیں تو آنکھیں رو پڑتی ہیں۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک گہری اداسی چھپی ہوتی ہے۔ ابو! کاش آپ نہ جاتے کاش یہ سب ایک بھیانک خواب ہوتا اور میں چیخ مار کر جاگ جاتی۔ مگر یہ خواب نہیں یہ تلخ حقیقت ہر روز میرا دم گھونٹ دیتی ہے۔
فادرز ڈے پر سب اپنے ابو کو تحفہ دیتے ہیں۔ میرا تحفہ کہاں جائے ابو؟

اے میرے رب! میرے والدِ محترم اور والدہ محترمہ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ وہاں نور ہی نور کر دے۔ ان کی روحوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین محلوں میں جگہ دے۔ آمین۔
اے اللہ! جس جس کا باپ زندہ ہے، اس کا سایہ سلامت رکھنا۔ اسے کبھی یتیمی کے اس عذاب سے نہ گزارنا۔ حتیٰ کہ دشمن کو بھی نہیں کیونکہ قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اتنی اذیت میں دشمن کے لیے بھی نہیں برداشت کر سکتی ۔تمام پڑھنے والوں کے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے ایک بار سورۃ فاتحہ اور 3 بار درودِ پاک پڑھ کر میرے امی ابو کو بخش دیں۔ شاید آپ کی دعا سے ان کی قبر روشن ہو جائے۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

More posts