گوجرانوالہ میں دو دن پہلے بہت دکھ بھرا واقعہ ہوا۔حافظ آباد کے کالیکی منڈی کا لڑکا عبدالوحید گوجرانوالہ کی فائزہ سے محبت کر بیٹھا۔ دونوں نے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا۔ جب گھر والے نہ مانے تو دونوں نے چپکے سے کورٹ میں نکاح کر لیا۔ وحید فائزہ کو اپنے گھر لے آیا۔ یہ عید الفطر سے پہلے کی بات ہے۔فائزہ بہن سے فون پر رو کر کہتی تھی کہ ابا کو مناؤ۔ باپ مان گیا۔ عید الاضحیٰ سے پہلے اس نے پیغام بھیجا: "گھر آ جاؤ، عید کے بعد سامان کے ساتھ رخصت کروں گا۔”فائزہ ڈر رہی تھی مگر وحید نے کہا: "میں ساتھ چلوں گا۔” دونوں گوجرانوالہ چلے گئے۔ کچھ دن بعد باپ نے پہلے داماد کو پھر بیٹی کو اس کے بعد بچانے آئے نوکر کو گولی مار دی۔ تینوں مر گئے۔عبدالوحید اور فائزہ کی کہانی بس تین مہینے کی تھی۔ دو عیدیں ساتھ گزاریں اور سب ختم۔
اب ذرا سوچیے:
حضرت خدیجہؓ بہت نیک اور پاکباز خاتون تھیں۔ ہمارے نبی کی پہلی بیوی۔ انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ یہ آج سے 1400 سال پہلے کی بات ہے۔ جب ایک عورت خود رشتہ بھیج سکتی ہے جب اولاد اپنی پسند بتا دے اور وہ شرعی طور پر ٹھیک ہو، تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کی پسند کو اپنی پسند بنا لیں۔ اس سے جھگڑے ہی ختم ہو جائیں گے۔
اور اگر اولاد سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو ماں باپ کا کام ہے کہ پیار سے سمجھائیں، غلطی سدھارنے میں مدد کریں۔ غلطی پر غلطی نہ کریں۔ مارنا، قتل کرنا تو سب سے بڑی غلطی ہے۔دعا زہرا کا کیس آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باپ نے دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بیٹی کا ساتھ دیا۔ اس نے اپنی بیٹی کو دوبارہ اس معاشرے میں جینے کے قابل بنایا۔ باپ ایسے ہوتے ہیں۔ سہارا بنتے ہیں، قاتل نہیں بنتے۔کاش فائزہ کے باپ نے بھی دعا زہرا کے باپ جیسا دل بڑا کیا ہوتا۔ کاش وہ حضرت خدیجہؓ والا 1400 سال پرانا سبق یاد رکھتا کہ عورت کی پسند کی بھی عزت ہوتی ہے۔
اللہ پاک وحید، فائزہ اور اس بے قصور نوکر کو جنت دے۔ اور ہر ماں باپ کو اولاد کا دکھ سمجھنے والا دل دے۔ آمین
