علاقائی امن میں کردار کے بعد کیا عالمی طاقتیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیں گی؟
پاکستان نے پل کا کردار نبھایا، اب دنیا معاشی استحکام میں ساتھ دے
تجزیہ شہزاد قریشی
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت یا ڈیل کو اگر خطے کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا سب سے بڑا سفارتی فائدہ پاکستان کو حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو اکثر صرف سکیورٹی اور داخلی چیلنجز کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا، لیکن اس بحران کے دوران پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ سفارتی پیش رفت مستقل استحکام کی طرف بڑھتی ہے تو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، یورپی ممالک اور خلیجی شراکت داروں کو پاکستان کی معیشت کے استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ علاقائی امن کے بغیر نہ عالمی تجارت محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ ہی توانائی کی ترسیل۔ پاکستان نے اگر سفارت کاری کے ذریعے ایک مشکل تنازع میں پل کا کردار ادا کیا ہے تو اس کے بدلے میں عالمی برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی منصوبوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور مالی تعاون کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ ایک مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ صرف سفارتی کامیابی سے معاشی ترقی خود بخود نہیں آتی۔ پاکستان کو داخلی اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری دوست ماحول پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ عالمی حمایت تبھی دیرپا نتائج دے سکتی ہے جب اندرونی معاشی بنیادیں بھی مضبوط ہوں۔
