ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت طے پا گئی ہے۔
ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے غیر معمولی استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے بھاری قربانیاں دے کر اپنے دفاع کو یقینی بنایا اور ملک کبھی ان شخصیات اور رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گا جو اس دوران شہید ہوئیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت اور دیگر علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حالیہ حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔
اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے عالمی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرنے میں ناکام رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کی گئی مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے نکات شامل ہیں۔ ان کے مطابق لبنان میں امن کا قیام اس مفاہمتی عمل کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر خطے میں پائیدار استحکام کا حصول ممکن نہیں۔
بقائی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پیشرفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمت طے پا گئی، ایران
