وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں بھی اپنا مثبت حصہ ڈالا۔
قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات اور سفارتی کامیابیاں سیاسی و عسکری قیادت کے مؤثر تعاون اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں عوام کو دی جانے والی معاشی سہولتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ حکومت نے براہ راست عوام تک منتقل کیا، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں مجموعی طور پر 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کا فائدہ عوام کو پہنچایا جائے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت نے بروقت اقدامات کے ذریعے ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملک کو کسی بڑے بحران سے محفوظ رکھا۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اور حتمی شکل دینے کے عمل میں دونوں رہنماؤں کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں کردار ادا کیا، وزیر خزانہ
