وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آئی ٹی شعبے، برآمد کنندگان، تنخواہ دار طبقے اور جائیداد کے کاروبار کے لیے متعدد اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور عوامی ریلیف کو یقینی بنانا ہے۔
بجٹ تقریر کے مطابق آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی سہولت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ رعایت اب 30 جون 2029 تک برقرار رہے گی۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا ٹیکنالوجی شعبہ عالمی منڈی میں مزید مضبوط ہوگا۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں بھی کمی کی جا رہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی مالی لین دین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
حکومت نے سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا ہے۔ سالانہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر عائد 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ایف بی آر محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے جبکہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں 8 ہزار 54 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔
دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد اور 32 سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے لاکھوں ملازمت پیشہ افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
بجٹ 2026-27 میں آئی ٹی، تنخواہ دار طبقے اور جائیداد شعبے کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان
