سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ ملک کے سب سے المناک صنعتی سانحات میں سے ایک کے مقدمے میں ایک اہم قانونی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں پر تفصیلی دلائل سنے گئے۔ عدالتی کارروائی میں ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کے سامنے اپنا مؤقف رکھا۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسا مضبوط اور براہِ راست ثبوت پیش نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ دونوں ملزمان نے فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی چشم دید گواہ موجود تھا اور نہ ہی ایسا ناقابل تردید ثبوت پیش کیا گیا جو ملزمان کو جرم سے جوڑ سکے۔
عدالت نے تمام شواہد، قانونی نکات اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزائے موت ختم کر دی اور انہیں بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
یاد رہے کہ ماتحت عدالت نے دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ اعلیٰ عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اس مقدمے کی قانونی حیثیت اور تفتیشی عمل پر ایک نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 256 مزدور اور ملازمین جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے اور اس نے فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کے حقوق اور انصاف کے نظام سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کیے تھے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متاثرہ خاندانوں، قانونی ماہرین اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ یہ مقدمہ ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان بری کر دیے
