وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اہم اجلاس میں آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کو کم کرتے ہوئے 1126 ارب روپے سے گھٹا کر ایک ہزار ارب روپے مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 126 ارب روپے کی کمی کی منظوری دی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود مالی وسائل اور مالیاتی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی اخراجات کو حقیقت پسندانہ سطح پر رکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چاروں صوبے اپنے مقامی وسائل سے مجموعی طور پر 1635 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گے۔ اس طرح وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کو ملا کر ملک بھر میں متعدد اہم منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب حکومت اپنے وسائل سے 605 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی، جبکہ سندھ حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 450 ارب روپے مختص کرے گی۔ خیبرپختونخوا نے 305 ارب روپے اور بلوچستان نے 275 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی وسائل کے علاوہ صوبوں کو بیرونی مالی معاونت اور ترقیاتی فنڈنگ کے ذریعے بھی اضافی وسائل حاصل ہوں گے، جنہیں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دے گی تاکہ معاشی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔
معاشی ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کمی حکومت کی مالیاتی پالیسی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ دوسری جانب صوبائی ترقیاتی پروگراموں کا حجم برقرار رہنے سے مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کی منظوری کے بعد یہ اہداف اور ترقیاتی منصوبے آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کا اہم حصہ بنیں گے۔
قومی اقتصادی کونسل نے ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کر دیا
