پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاک فضائیہ کی اس کارروائی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ ان کے متعدد اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی انتہائی درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس کا مقصد حالیہ دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق آپریشن میں موسیٰ درہ، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈز کو ہدف بنایا گیا۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈرز علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور آپریشنل نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں موجود چار بڑے دہشت گرد مراکز اور اسلحہ کے ذخائر بھی نشانہ بنائے گئے۔
حکام کے مطابق اس آپریشن سے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیت اور حملوں کی منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ کارروائی میں جدید فضائی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس وسائل کا استعمال کیا گیا جس کے باعث دہشت گردوں کے اہم مراکز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بھارتی سرپرستی حاصل تھی اور وہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے وژن "عزمِ استحکام” کے تحت پاک فوج، پاک فضائیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام تک یہ مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں ایسی کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26 دہشت گرد ہلاک
