Baaghi TV


ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج، خواتین پر فائرنگ

افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کشیدگی پیدا ہو گئی۔ عینی شاہدین اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ طالبان پولیس نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جبکہ طبی ذرائع کے مطابق دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان حکام نے ہلاکتوں کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد خواتین کو مبینہ طور پر اسلامی لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف مردوں اور خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی اور احتجاج کیا۔
‎طبی عملے کے ذرائع نے بتایا کہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے متعدد افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
‎عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بعض مظاہرین کے مطابق لاٹھیوں، کوڑوں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا جبکہ فضا میں فائرنگ بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور بعض خواتین کو چیختے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
‎دوسری جانب ہرات پولیس کے ترجمان سید مسعود حسینی نے ہلاکتوں کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی۔ ان کے مطابق بعض افراد حجاب کے معاملے کو بنیاد بنا کر کشیدگی پیدا کرنے اور عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
‎مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران "تعلیم، کام، آزادی” کے نعرے بھی لگائے گئے، جو گزشتہ چند برسوں سے افغان خواتین کے حقوق سے متعلق تحریکوں کا اہم شعار رہے ہیں۔
‎یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی آزادیوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا افغان خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

More posts