Baaghi TV


رانا ثنا اللہ کا کالعدم ایکشن کمیٹی پر تنقید، مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مسترد

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے یہ جانتے ہوئے بھی 9 جون کے لانگ مارچ کا الٹی میٹم دیا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات 4 اگست سے پہلے کرانا آئینی تقاضا ہے۔
‎سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے اور مہاجرین کو وزارتی عہدے نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ مسئلہ صرف نشستوں کا نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی بنیادی روح سے جڑا ہوا ہے۔
‎رانا ثنا اللہ کے مطابق مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی کرنے والی نشستیں ایک آئینی اور تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نشستوں کو ختم کرنا کشمیر کاز کے بنیادی مؤقف کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا، اسی لیے حکومت نے واضح طور پر ایسے مطالبات قبول کرنے سے انکار کیا۔
‎انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی معاملات کا حل جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم ایسے مطالبات جو آئینی ڈھانچے اور قومی مؤقف سے متصادم ہوں، ان پر حکومت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔
‎مشیر وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کشمیر کی نمائندگی پاکستان کے مؤقف کا اہم حصہ ہے اور ان کی سیاسی شمولیت کو محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق تمام معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر نشستوں کا معاملہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جبکہ حکومت اور مختلف سیاسی و عوامی حلقوں کے درمیان اس حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

More posts