یہ بات تو طے ہے کہ تمباکو نوشی پاکستان کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور کھوکھلا کر رہی ہے بے شمار پاکستانی صرف اور صرف تمباکو نوشی کے ذریعے اپنی قیمتی جانیں تلف کر بیٹھے ہیں۔۔۔اور مزید اعداد و شمار میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اموات میں بھی اور اس لت میں مبتلا ہونے والے نشئی افراد میں بھی اضافہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔۔اگر یہی عمل جاری و ساری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان(خدا نخواستہ) تباہی کے دلدل میں ڈوب جائے گا.
یہ بڑی خوبصورت سوچ ہے کہ چند تجاویز حکومت کے سر منڈھ کر چین کی بنسی بجائیں اور خود ہر امر سے مبرّا ہو جائیں۔۔۔دراصل پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے ہر میدان میں ہم بڑھ چڑھ کر بولتے تو ہیں لیکن جب بات ذاتیات کی آتی ہے تو ہم ببانگ دہل نعرہ بلند کرنے والے پیچھے کھسک لیتے ہیں۔۔ہماری ہر بات میں زندہ دلی تو ہوتی ہے لیکن مردہ کرداروں کے ساتھ ہر اچھی بات کہنا نصیحت کرنا باعث ثواب سمجھا جاتا ہے لیکن عملی طور پر فقدان پایا جاتا ہے اور یہی شخصی جھول ہماری خو بن چکا ہے۔
یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے کہ پاکستان تمباکو نوشی سمیت مختلف نشوں کی مد میں سر فہرست کھڑا ہے۔اسکے سدّ باب کے لئے بہت کچھ کیا چکا ہے اور کیا جا رہا ہے لیکن فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق مسئلہ،معاملہ جوں کا توں قائم ہے…اعداد و شمار میں چنداں کمی محسوس نہیں ہو رہی بلکہ روز افزوں یہ لعنت اپنے پنجے گاڑھ رہی ہے۔۔۔پاکستان جیسی پاکیزہ سر زمین کو مفلوج کر رہی ہے۔۔۔کیونکہ اسکے ذریعے ہماری نو جوان نسل کے اعصاب شل کئے جا رہے ہیں ذہن مکدّر و پراگندہ کئے جا رہے ہیں اور یہ سب ایک بھیانک سازش ہے۔ہمارے ادارے غیر فعال ہو رہے ہیں ہمارے گھروں میں آپسی رنجشیں اور چپقلشیں پنپ رہی ہیں نفرتوں کے ستون تعمیر ہو رہے ہیں،ماں بہن بیوی بیٹی کی عزت و ناموس خاک میں مل رہی ہے۔۔۔رشتوں کا احترام خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔بے روزگاری عام ہو چکی ہے چوری ڈکیتی غرض یہ کہ کونسی برائی ہے جو اس تمباکو نوشی جیسی لعنت کے زیر اثر نہیں ہے۔نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جنکی اصل وجہ صرف اور صرف تمباکو نوشی ہے۔
اس سلسلے میں بے شمار فلاحی تنظیمیں،حکومتی ادارے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن وغیرہ سب نے بڑے مؤثر انداز میں اپنے فرائض ادا کئے لیکن نتیجہ آٹے میں نمک کے برار۔دراصل اب وقت ہے کہ ہمیں نہایت سنجیدہ ہو کر اسکے اصل عوامل کیطرف توجہ کرنی ہو گی۔غور طلب امر اور پہلو یہ ہے کہ بہت کچھ کیا جا چکا ہے۔۔اسکے سدباب کے لئے لیکن اسکے باوجود نتائج حوصلہ افزاء نہیں حاصل ہو رہے ہیں تمام کوششیں کیوں بے ثمر و بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔لہذا غور طلب پہلو یہ ہے
میری نظر میں اس لعنت میں اگر کمی یا خاتمہ ممکن ہے تو جواسکی بنیادی وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ تربیت کا فقدان ہے اگر ہم نونہالوں کی اسلامی نظریات پر بنیادیں تعمیر کریں تو۔۔۔۔یقیناً امید کی جاسکتی ہے کہ کم و بیش ہم اس لعنت پر اسی نوے فیصد قابو پا سکتے ہیں۔۔۔دراصل کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اسکی آئندہ آنے والی نسلیں ہوا کرتی ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کا درست ہونادراصل صحت کی بنیادی علامت ہوا کرتی ہے۔
جسطرح درخت کی نرم شاخ کو ہم حسب منشاء موڑ سکتے ہیں بالکل یہی مثال ایک معصوم بچے کی بھی ہے،ہم بچپن میں بچے کو جو ماحول دیں گے وہ وہی اپنائے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر بچہ کو اسکے والدین اپنی طرف سے بہترین تربیت دے رہے ہوتے ہیں تو معزرت کے ساتھ عرض ہے کہ ایسا در حقیقت ہو نہیں رہا جسے والدین بہترین کہہ رہے ہیں وہ دراصل۔۔۔غیبت،لالچ،ایک دوسرے کو نیچا دکھانا،رشتوں کی بے حرمتی،احساس کمتری یا برتری کے حبس زدہ ماحول میں آداب مجلسی کی تنزلی کا شکار زدہ ماحول دیا جا رہا ہے۔
جسکے نتیجہ میں بچوں میں گھبراہٹ،خوف،بے سکونی،اعتماد میں شدید ترین کمی کیوجہ سے بچوں میں اوائل عمر میں ہی تنہائی میں تحفظ کا احساس جاگنے لگتا ہے اور آگے چل کر یہی تنہائی مختلف جرائم کی بنیاد بنتی ہے۔تنہائی کے عادی بچے کاہل الوجود ہو جاتے ہیں ایسے میں وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے چھوٹی موٹی چوریاں کرتے ہوئے بالآخر ان لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں اپنے اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور نشہ دیکر ڈھیٹ بنا دیتے ہیں لہذا وہ معاشرے کا نا کارہ پرزہ ثابت ہونے لگتے ہیں اسی کے پیش نظر انہیں واپس پلٹنے کا راستہ نہیں ملتا۔
لہذا حکومت کو چھوٹے بچوں کے لئے ہر علاقے میں ایسے ادارے ضرور بنانے چاہیں جہاں غیر تعلیم یافتہ والدین اپنے بچوں کو بھیج سکیں جہاں بچوں کو فری میں تعلیم اور چھوٹے ہنر سکھائے جائیں اور مصروف رکھا جائے۔۔وقتاً فوقتاً والدین کو بھی آگاہی پروگرامز کے ذریعے تعلیم دی جائے ایسی ورک شاپس منعقد کی جائیں کہ کہ جووالدین بیروزگار ہیں انکی آمدنی کا ذریعہ بن سکے۔دوسری جانب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہائی فائی طبقہ بھی تمباکو کی لت کا شکار ہوتا ہے اور دراصل یہ ہی طبقہ ہے جو پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔۔اور دراصل یہ ہی تمباکو کی ترسیل کا آلہ کار طبقہ ہے انکی اولادیں دراصل آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا کہ پیش نظر اس لت کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ان لوگوں کو بلا تفریق سزائیں ملنی چاہیں تاکہ اس گندگی سے پاک۔۔۔پاک سر زمینِ پاکستان پنپ سکے۔
” الہی خیر ہو ایمان کے کمزور بیڑے ہیں
ہوائیں تند ہیں اور باد سر سر کے تھپیڑے ہیں..
ہوائے شطنیت کمزور بیڑوں کو ڈبوتی ہے
مگر اولاد آدم تخت غفلت پر سوتی ہے۔”
