تمباکو آج کی دنیا میں صحتِ عامہ کا سب سے بڑا قابلِ تدارک خطرہ بن چکا ہے۔ اگرچہ تمباکو ایک پودا ہے اور اس کی کاشت زرعی معیشت کا حصہ رہی ہے لیکن اس کے مسلسل استعمال نے لاکھوں زندگیاں نگل لیں اور کروڑوں خاندانوں کو جسمانی، ذہنی اور معاشی نقصان پہنچایا۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ تمباکو میں موجود نکوٹین ایک طاقتور نشہ آور مادہ ہے جو دماغ کے کیمیائی نظام کو بدل دیتا ہے اور انسان کو جسمانی و نفسیاتی طور پر اس کا عادی بنا دیتا ہے۔قدیم زمانے میں امریکہ کے مقامی قبائل تمباکو کو مذہبی رسومات اور دوائی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ سولہویں صدی میں جب یورپی مہم جو امریکہ پہنچے تو وہ تمباکو اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ رفتہ رفتہ کپاس، گندم اور مکئی کی طرح تمباکو کی کاشت بھی تجارتی فصل کے طور پر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ نباتاتی درجہ بندی کے مطابق تمباکو “نکوٹیانا” خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس پودے میں پایا جانے والا بنیادی کیمیائی مادہ “نکوٹین” ہے، جس کے نام پر اس خاندان کا نام بھی رکھا گیا۔
نکوٹین بہت کم مقدار میں بھی دماغ میں موجود نکوٹینک رسیپٹرز کو متحرک کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈوپامین اور دیگر نیوروٹرانسمیٹر خارج ہوتے ہیں، جس سے عارضی طور پر سکون، توجہ اور خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ مگر بار استعمال سے دماغ ان رسیپٹرز کی تعداد بڑھا دیتا ہے، اور جسم نکوٹین پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے تمباکو نوش کو سگریٹ نہ ملنے پر بے چینی، چڑچڑاپن، سر درد اور نیند کی خرابی جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں۔ کسی شخص کا نکوٹین پر انحصار اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کتنی مقدار میں، کتنے عرصے سے اور کس طریقے سے تمباکو استعمال کر رہا ہے۔ سگریٹ، حقہ، نسوار، ہان اور چیونگ تمباکو میں نکوٹین کی مقدار مختلف ہوتی ہے اور یہ فرق بھی عادت کی شدت پر اثر انداز ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 1.1 ارب افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، یعنی بالغ آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ۔ ہر سال تقریباً 80 لاکھ افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے 70 لاکھ سے زائد اموات براہِ راست تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہوتی ہیں، جبکہ 12 لاکھ اموات “سیکنڈ ہینڈ سموک” یعنی غیر تمباکو نوش افراد کے تمباکو کے دھوئیں میں سانس لینے سے واقع ہوتی ہیں۔
تمباکو صرف جان ہی نہیں لیتا بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ علاج کے اخراجات، پیداواری صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات کی وجہ سے عالمی معیشت کو سالانہ تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اس بوجھ کو برداشت کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں صحت کا نظام پہلے ہی محدود وسائل کا شکار ہے۔تمباکو کو “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے لیکن طویل مدت میں یہ جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تمباکو کے دھوئیں میں 7000 سے زائد کیمیائی مادے ہوتے ہیں، جن میں سے کم از کم 250 زہریلے اور 70 کینسر پیدا کرنے والے ہیں۔ طبی شواہد کے مطابق تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، پھیپھڑوں، اور لبلبے کے کینسر کا بڑا سبب ہے۔یہ دَمہ، نمونیا، دل کے دورے، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ حاملہ خواتین میں تمباکو کا استعمال قبل از وقت ولادت، کم وزن کے بچے اور اسقاطِ حمل کا باعث بن سکتا ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو کا آغاز دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے اور بعد میں منشیات کے استعمال کا امکان بڑھاتا ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 3 کروڑ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں سگریٹ نوشوں کے ساتھ نسوار اور حقہ استعمال کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ہر سال ہزاروں افراد منہ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کے امراض کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے، کیونکہ کم قیمت سگریٹ اور اشتہارات تک آسان رسائی انہیں اس عادت کی طرف کھینچتی ہے۔اس خطرناک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور معاشرے کو مل کر سنجیدہ اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔پہلا اور سب سے اہم قدم تمباکو کنٹرول کے لیے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے تحفظ کا قانون” موجود ہے، جس میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت، پیکیج پر صحت کے انتباہات اور نابالغوں کو تمباکو کی فروخت پر پابندی شامل ہے۔ مگر کمزور نفاذ کی وجہ سے یہ قانون مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ ہوٹلوں، دفاتر، پارکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کا نفاذ نہ صرف غیر تمباکو نوشوں کو دھوئیں سے بچائے گا بلکہ سماجی طور پر تمباکو کو ناپسندیدہ بھی بنائے گا۔
دوسرا مؤثر ہتھیار قیمت اور ٹیکس کا ہے۔ اقتصادی تحقیق سے ثابت ہے کہ سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ نوجوانوں میں استعمال کو 4 فیصد اور بالغوں میں 2 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر بھاری اور یکساں ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے ان کی قیمت بڑھے گی اور یہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔ حاصل شدہ اضافی آمدنی کو صحت کے نظام اور تمباکو ترک کرنے کے پروگراموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔تیسرا کام آگاہی اور تعلیم ہے۔ میڈیا، اسکولوں، کالجوں اور مذہبی و سماجی فورمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر مہم چلانا ضروری ہے تاکہ لوگ تمباکو کے حقیقی نقصانات سے باخبر ہوں۔ پیکیج پر خوفناک تصویری انتباہات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر آگاہی پیغامات، اور اسکول کے نصاب میں تمباکو کے مضمرات کو شامل کرنا نئی نسل کو اس عادت سے بچا سکتا ہے۔
چوتھا اہم اقدام تمباکو چھوڑنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ جو لوگ تمباکو ترک کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے مفت یا کم قیمت پر مشاورتی خدمات، ہیلپ لائن اور نیکوٹین متبادل تھراپی جیسے گم، پیچ اور ادویات کی فراہمی ضروری ہے۔ بنیادی صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو “تمباکو ترک کرنے کی مختصر مداخلت” کی تربیت دینے سے لاکھوں افراد کو بروقت مدد مل سکتی ہے۔پانچواں قدم تمباکو کی ہر قسم کی تشہیر، پروموشن اور سپانسرشپ پر مکمل پابندی ہے۔ تمباکو کمپنیاں اکثر کھیلوں، موسیقی اور ثقافتی تقریبات کی سپانسرشپ کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس روایت کو ختم کیے بغیر طلب میں کمی ممکن ہے
تمباکو کے رجحان کو کم کرنے کے لیے صرف پابندی کافی نہیں بلکہ نوجوانوں کو صحت مند متبادل ذرائع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ ملک میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، فنون اور سماجی خدمات کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ اس کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنے ہوں گے، اسکولوں میں جسمانی تعلیم کو فعال بنانا ہوگا اور مقامی سطح پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے ہوں گے تاکہ بچے اور نوجوان اپنا وقت سگریٹ نوشی کے بجائے کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کریں۔
تمباکو وہ واحد بڑی وجہِ اموات ہے جس کا تدارک مکمل طور پر ممکن ہے۔ اگر حکومت قوانین پر سختی سے عمل کرے، ٹیکس بڑھائے، آگاہی پھیلائے، ترک کرنے میں مدد دے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لائے تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنانا ایک حقیقت بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں زندگیاں بچیں گی، صحت کے خراجات کم ہوں گے اور ایک صحت مند، پیداواری نسل پروان چڑھے گی۔ تمباکو کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری خاندان اور ادارے کا فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔
