سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں سفارتی حل کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو خوش آئند سمجھتا ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کیلئے سفارت کاری کو موقع دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا معاہدہ ضروری ہے جو آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری نقل و حمل کو 28 فروری 2026 سے پہلے کی صورتحال کے مطابق بحال کرے اور تمام متنازع نکات کو اس انداز میں حل کرے جو خطے کے امن اور استحکام کیلئے مؤثر ہو۔
فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب اس عمل میں پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور جامع معاہدے کیلئے ہونے والی کوششوں کا مثبت جواب دے گا۔
سعودی وزیر خارجہ کے مطابق خطے اور دنیا میں پائیدار امن کیلئے فوری سفارتی پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
سعودی عرب نے ایران امریکا مذاکرات کیلئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہ دیا
