دنیا میں کپڑوں کی تیاری کے دوسرے بڑے ملک بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری شدید توانائی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جہاں ایران تنازعے کے بعد ایندھن کی قلت اور بجلی کی بندش نے فیکٹریوں میں کام کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بجلی کی کمی کے باعث متعدد کارخانوں میں پنکھے اور کولر بند کر دیے گئے ہیں، جس سے شدید گرمی میں کام کرنے والے مزدور بے حال ہو رہے ہیں جبکہ پیداواری صلاحیت میں خطرناک حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے اطراف قائم صنعتی علاقوں میں درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ شدید حبس نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔
فیشن انڈسٹری سے وابستہ ماہر جہانگیر عالم نے بتایا کہ چھوٹے صنعت کار بجلی بند ہونے کی صورت میں مہنگے جنریٹر چلانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ ٹھنڈک کے آلات بند رکھنے پر مجبور ہیں۔
مزدوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم “بنگلہ دیش سینٹر فار ورکر سولیڈیرٹی” کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلپنا اختر کے مطابق شدید گرمی کے باعث مزدوروں میں چکر آنا، متلی، بے ہوشی اور جسمانی کمزوری عام ہو چکی ہے۔
بنگلہ دیش اپنی توانائی کی تقریباً 95 فیصد ضروریات درآمدی ایندھن سے پوری کرتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی دونوں کو متاثر کیا ہے۔
غازی پور میں قائم ایک بڑی ٹیکسٹائل مل کے مینیجر اے کے ایم قمر الزمان نے کہا کہ صنعتیں صرف کسی نہ کسی طرح پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں، مناسب ٹھنڈک اور ہوا کی نکاسی کا نظام چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف لیبر اسٹڈیز کے سروے کے مطابق 78 فیصد گارمنٹ ورکرز نے اعتراف کیا کہ گرمی کی شدت نے ان کی صحت اور کام کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔
طبی جریدے “دی لانسیٹ” کی رپورٹ کے مطابق صرف 2024 میں گرمی کے باعث بنگلہ دیش میں تقریباً 29 ارب ورکنگ آورز ضائع ہوئے جبکہ اس سے 24 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 5 فیصد کے برابر ہے۔
ایران تنازعے اور بجلی بحران نے بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا
