العربیہ نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے 14 نکاتی نئی امن تجاویز تیار کر لی ہیں اور یہ تجاویز پاکستانی ثالثوں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے سخت مؤقف میں اہم نرمی دکھاتے ہوئے طویل مدت کیلئے اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
العربیہ نیوز اور ایرانی میڈیا کے مطابق ایران جوہری پروگرام مکمل ختم کرنے کے بجائے اسے عارضی طور پر روکنے پر راضی ہوا ہے۔
تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکا کے بجائے روس منتقل کرنے کیلئے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگی نقصانات کے معاوضے کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹتے ہوئے اپنی توجہ اقتصادی مراعات اور پابندیوں میں نرمی پر مرکوز کر دی ہے۔
نئی تجاویز میں آبنائے ہرمز سے متعلق خصوصی فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور عالمی تجارت و تیل کی سپلائی محفوظ رہ سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے بھی ان تجاویز پر مثبت اشارے دیے ہیں اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت مذاکرات جاری رہنے تک امریکا ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیوں سے عارضی دستبرداری اختیار کر سکتا ہے تاکہ ایرانی معیشت کو ریلیف مل سکے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کا مقصد عالمی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں تناؤ کم کرنا اور ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پیش رفت کامیاب رہی تو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
ایران کی 14 نکاتی نئی امن تجاویز، جوہری پروگرام منجمد کرنے پر آمادگی
