Baaghi TV

Blog

  • سرجری کے بعد میامی بیچ پر لال بکنی پہنےاسٹاسی کرانیکولاوپہنچ گئیں

    سرجری کے بعد میامی بیچ پر لال بکنی پہنےاسٹاسی کرانیکولاوپہنچ گئیں

    میامی: معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کائلی جینر کی قریبی دوست اسٹاسی کرانیکولاو نے حالیہ دنوں میں اپنی نئی باڈی ٹرانسفارمیشن کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر جلوہ دکھایا، جس نے مداحوں کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ اسٹاسی کو 29 اپریل کو میامی بیچ پر سرخ بکنی میں دیکھا گیا، جہاں انہوں نے حالیہ “بی بی ایل ریڈکشن” کے بعد اپنی بدلی ہوئی شکل کو نمایاں کیایہ پیش رفت اس سرجری کے تقریباً سات ماہ بعد سامنے آئی ہے، جب اسٹاسی نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک ویڈیو کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ وہ سرجری کے بعد ریکوری سینٹر میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اس تبدیلی کے بعد خود کو زیادہ پُرسکون اور مطمئن محسوس کر رہی ہیں۔

    اپنے بیان میں اسٹاسی کا کہنا تھا “میں اب خود کو زیادہ بہتر محسوس کرتی ہوں، اور اپنی جلد میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔”انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں انہوں نے کم عمری میں بی بی ایل کروانے کا فیصلہ دباؤ اور بدلتے ہوئے فیشن ٹرینڈز کے زیر اثر کیا، جس پر بعد میں انہیں افسوس ہوا۔ مئی 2025 میں اپنے پوڈکاسٹ کے دوران انہوں نے کہا “یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس پر مجھے پچھتاوا ہے، اور میں کافی عرصے سے اسے درست کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔”

    اسٹاسی نے اپنے مداحوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وقتی رجحانات کے پیچھے چل کر جسم میں مستقل تبدیلیاں کروانا درست نہیں کیونکہ ٹرینڈز بدلتے رہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ان کی نئی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جہاں کچھ صارفین ان کے اعتماد کی تعریف کر رہے ہیں تو کچھ اس تبدیلی پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • امریکہ،سب وے نے 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے

    امریکہ،سب وے نے 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے

    امریکہ میں فاسٹ فوڈ کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سب وے نے گزشتہ سال 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے، جس کے بعد اس کا سب سے بڑا حریف میکڈونلڈ مزید مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سب وے اب بھی امریکہ میں تقریباً 18,773 ریسٹورنٹس کے ساتھ سب سے بڑا نیٹ ورک رکھتا ہے، جبکہ میکڈونلڈز کے قریب 14,000 آؤٹ لیٹس ہیں۔ تاہم، سب وے کی جانب سے ایک سال میں 729 ریسٹورنٹس کی بندش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل سکڑاؤ کا شکار ہے۔کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بندش ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایسے مقامات کا انتخاب کرنا ہے جہاں کاروبار طویل مدت تک کامیاب رہ سکے۔ اس کے تحت بہتر لوکیشن، نمایاں موجودگی اور مضبوط آپریشنز پر توجہ دی جا رہی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں سب وے کے امریکہ بھر میں 27 ہزار سے زائد سٹورز تھے، لیکن اب تک 8 ہزار سے زیادہ ریسٹورنٹس بند کیے جا چکے ہیں، جو ایک بڑی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔2024 میں سب وے کو معروف سرمایہ کاری فرم Roark Capital نے تقریباً 9.6 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔ بعد ازاں کمپنی نے Jonathan Fitzpatrick کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا، جو اس سے قبل برگر کنگ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔مہنگائی کے باعث متاثرہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے سب وے نے اپریل میں اپنی پہلی ویلیو مینو متعارف کروائی، جس میں 5 ڈالر سے کم قیمت کے 15 آئٹمز شامل ہیں، جن میں 4.99 ڈالر کے سبس بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب میکڈونلڈز بھی سستی اشیاء کی دوڑ میں آگے ہے اور اس نے اپنے “انڈر 3 ڈالر” مینو اور مقبول میل ڈیل کومبوز کے ذریعے صارفین کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔مزید برآں، دونوں کمپنیاں نوجوان صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے نئے اسپیشلٹی ڈرنکس متعارف کروا رہی ہیں، جس سے فاسٹ فوڈ مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔

  • لٹیری دلہن نویں شادی پر پکڑی گئی

    لٹیری دلہن نویں شادی پر پکڑی گئی

    بھارتی ریاست مہاراشٹراکے ضلع بیڈ میں ایک حیران کن اور سنگین نوعیت کا فراڈ سامنے آیا ہے، جہاں جعلی شادیوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس گروہ کی مرکزی کردار ایک ایسی خاتون نکلی ہے جسے مقامی میڈیا نے "لٹیری دلہن” کا نام دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ خاتون پہلے ہی آٹھ مختلف مردوں سے شادی کر کے انہیں مالی طور پر لوٹ چکی تھی، اور اس کا نواں شکار ضلع بیڑ کے گاؤں اومپور کا رہائشی ایک شخص بنا۔ اس پورے نیٹ ورک میں کئی ایجنٹس شامل تھے جو شادی کے خواہشمند افراد کو نشانہ بناتے اور انہیں فرضی رشتوں کے جال میں پھنسا دیتے تھے۔ متاثرہ شخص کو بھی اسی طریقے سے شادی کے جال میں لایا گیا، جس کے بعد مختلف بہانوں سے اس سے لاکھوں روپے وصول کیے گئے۔شادی کے کچھ عرصے بعد دلہن کے مشکوک رویے پر شک گہرا ہوا، جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ خاتون اس سے پہلے بھی اسی طرز کی آٹھ جعلی شادیاں کر چکی ہے اور ہر بار دولہے کو مالی نقصان پہنچا چکی ہے۔

    معاملہ سامنے آنے کے بعد متاثرہ شخص نے ضلعی پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رابطہ کیا اور باضابطہ شکایت درج کروائی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور پورے نیٹ ورک کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس گروہ کے دیگر ارکان کی تلاش جاری ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔

  • اروشی ڈھولکیا کی بکنی پہنے نئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    اروشی ڈھولکیا کی بکنی پہنے نئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف بھارتی اداکارہ اروشی ڈھولکیا ایک بار پھر سوشل میڈیا پر خبروں کی زینت بن گئی ہیں، جہاں انہوں نے اپنی تازہ تصاویر شیئر کر کے مداحوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    اداکارہ کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی تصاویر میں وہ نہایت پُراعتماد اور گلیمرس انداز میں نظر آ رہی ہیں۔ ان تصاویر میں ان کا اسٹائل، فٹنس اور منفرد انداز نمایاں ہے، جسے مداحوں نے خوب سراہا ہے۔ تصاویر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث آ گئیں۔رپورٹس کے مطابق اروشی ڈھولکیا ان دنوں اگرچہ ٹی وی اسکرین سے دور ہیں، تاہم وہ سوشل میڈیا پر خاصی سرگرم رہتی ہیں اور اپنی نجی و پروفیشنل زندگی کے لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔

    مداحوں کی جانب سے کمنٹس میں ان کی فٹنس اور اعتماد کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ کئی صارفین نے انہیں آج بھی اتنا ہی خوبصورت قرار دیا جتنا وہ اپنے مشہور کردار “کومولیکا باسو” کے زمانے میں تھیں۔

    یاد رہے کہ اروشی ڈھولکیا نے کم عمری میں ہی شوبز کیریئر کا آغاز کیا تھا اور ڈرامہ سیریل “کسوٹی زندگی کی” میں اپنی اداکاری کے باعث بے حد مقبول ہوئی تھیں۔46 سال کی عمر میں بھی ان کی فٹنس اور اسٹائلش لک مداحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ان کی نئی تصاویر انٹرنیٹ پر مسلسل وائرل ہو رہی ہیں۔

  • بنامیک اپ کرینہ کپور نے شیئر کیں تصاویر

    بنامیک اپ کرینہ کپور نے شیئر کیں تصاویر

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھا گئی ہیں، جہاں ان کی بغیر میک اپ کے قدرتی انداز میں لی گئی تصاویر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

    کرینہ کپور ان دنوں بھارت کی ریاست ہریانہ میں واقع تاریخی پٹودی پیلس میں اپنی فیملی کے ساتھ پرسکون چھٹیاں گزار رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی کئی تصاویر شیئر کیں جن میں ان کا سادہ، قدرتی اور پُرسکون انداز نمایاں نظر آتا ہے۔تصاویر میں کرینہ کپور کو بغیر میک اپ کے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ان کا قدرتی چہرہ، ہلکی مسکراہٹ اور کھلے بال ان کی شخصیت کو مزید دلکش بنا رہے ہیں۔ دھوپ میں لی گئی ان تصاویر میں ان کے چہرے کی قدرتی چمک مداحوں کو بے حد پسند آئی۔کرینہ کی ان تصاویر میں ان کا سادہ لباس اور قدرتی انداز مداحوں کے دل جیت رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے اس لک کو “ریئل بیوٹی” اور “ایفرٹ لیس گلیمر” قرار دیا ہے۔ تصاویر پوسٹ ہوتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔

    شیئر کی گئی تصاویر میں تاریخی پٹودی پیلس کی خوبصورت جھلک بھی نظر آتی ہے، جہاں قدیم طرزِ تعمیر، کشادہ صحن اور شاہانہ ماحول ان مناظر کو مزید دلکش بنا رہا ہے۔

    کام کے حوالے سے کرینہ کپور جلد ہی کرائم تھرلر فلم ‘دائرہ’ میں نظر آئیں گی، جس میں ان کا کردار پہلے سے زیادہ مضبوط اور منفرد بتایا جا رہا ہے۔اس سے قبل وہ روہت شیٹی کی ایکشن فلم ‘سنگھم اگین’ میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں، جس میں ان کے ساتھ اجے دیوگن، اکشے کمار، رنویر سنگھ، دیپیکا پڈوکون اور ٹائیگر شروف جیسے بڑے ستارے شامل تھے۔کرینہ کپور کی یہ نئی تصاویر نہ صرف ان کے فینز بلکہ عام سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی بے حد پسند کی جا رہی ہیں، اور ان کے قدرتی انداز کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

  • بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

    بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

    بھارت کی سیاست میں جہاں سیاسی خاندانوں کی حکمرانی ایک عام روایت سمجھی جاتی ہے، وہیں تمل ناڈو اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات 2026 میں ایک غیر معمولی اور حیران کن صورتحال نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تینوں کامیاب ہو کر رکن اسمبلی بن گئے۔

    یہ منفرد سیاسی خاندان لاٹری بزنس سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت سینٹیاگو مارٹن کا ہے، جن کے خاندان کے افراد نے مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے الگ الگ حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔سینٹیاگو مارٹن کی اہلیہ لیما روز مارٹن نے تمل ناڈو کے حلقے لال گڑی سے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (AIADMK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا،انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کوپا کرشنن کو تقریباً 2,700 ووٹوں سے شکست دی۔ یہ نشست طویل عرصے سے دراوڑ منیترا کزگم (DMK) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھی، تاہم دو دہائیوں بعد یہاں AIADMK نے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔ڈی ایم کے کے امیدوار ٹی پریولال بھی مقابلے میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ لیما روز مارٹن پہلے ایک اور سیاسی جماعت سے وابستہ تھیں لیکن انتخابات سے قبل وہ AIADMK میں شامل ہوئیں۔ کامیابی کے بعد انہیں پارٹی کی خواتین ونگ کی جوائنٹ سیکرٹری بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

    خاندان کے دوسرے کامیاب امیدوار آدھو ارجن ریڈی ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کی بیٹی ڈیزی مارٹن کے شوہر ہیں۔انہوں نے تمل ناڈو کے حلقے ولی وکم سے تملگا ویتری کژگم (TVK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ڈی ایم کے کے سینئر رہنما کارتک موہن کو 17,302 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔یہ نشست پچھلے دو انتخابات سے ڈی ایم کے کے پاس تھی، تاہم اس بار اپوزیشن نے اسے اپنے نام کر لیا۔آدھو ارجن ریڈی اداکار اور سیاست دان وجئے کی پارٹی TVK کے اہم رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور انہوں نے پارٹی کی انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔

    خاندان کے تیسرے کامیاب امیدوار جوس چارلس مارٹن ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کے بیٹے ہیں۔انہوں نے پڈوچیری اسمبلی کے حلقے کامراج نگر سے اپنی نئی سیاسی جماعت لتچیا جننایک کچی (LJK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 10 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کانگریس کے پی کے دیوداس اور TVK کے امیدوار کو شکست دی۔جوس چارلس مارٹن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اختلاف کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ بعد ازاں فروری 2026 میں اپنی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی۔انہوں نے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور “میک ان انڈیا” پروگرام کی تعریف بھی کی۔

    سینٹیاگو مارٹن بھارت میں لاٹری بزنس کے بڑے نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں لاٹری کاروبار سے آغاز کیا اور اپنی کمپنی Future Gaming and Hotel Services کو ملک کی بڑی لاٹری کمپنیوں میں شامل کر لیا۔مارچ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل الیکٹورل بانڈز کے معاملے کے بعد ان کا نام سیاسی فنڈنگ میں سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سامنے آیا۔ ان کی کمپنیوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو چندہ دیا۔تاہم بعد میں ان پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگے، جن کی تحقیقات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کیں۔ کئی بار ان کی کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے اور اربوں روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے۔فی الحال انہیں سپریم کورٹ سے عبوری ریلیف حاصل ہے، جبکہ ان کے لاٹری کاروبار سے متعلق مختلف ریاستوں میں قانونی سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

  • امریکہ امن چاہتا ہے،  لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

    امریکہ امن چاہتا ہے، لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک پریس بریفنگ اس وقت غیر معمولی اور دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ان سے ان کے "DJ نام” کے بارے میں سوال کیا گیا، جس کے جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہا”You’re not ready for my DJ name” (آپ میرے DJ نام کے لیے تیار نہیں ہیں)۔

    یہ سوال اس وقت کیا گیا جب روبیو کو ایک فیملی ویڈنگ میں DJ ڈیک کے پیچھے دیکھا گیا تھا، جس پر صحافیوں نے ان سے ان کا DJ نام پوچھ لیا۔

    مزاحیہ انداز کے بعد مارکو روبیو نے گفتگو کا رخ ایران کی صورتحال کی طرف موڑ دیا اور کہا کہ امریکہ امن چاہتا ہے،
    لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی موجودہ پالیسی اسے معاشی تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔روبیو نے سخت لہجے میں ایک مشہور ریپر آئس کیوب کے جملے کو دہراتے ہوئے کہا،انہیں خود کو درست کر لینا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ خود کو تباہ کر بیٹھیں،یہ جملہ انہوں نے ایران کی موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں استعمال کیا۔

    پریس کانفرنس میں روبیو نے چین پر زور دیا کہ وہ ایران کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ایران سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ اس کی سرگرمیاں اسے عالمی سطح پر تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا “آپ کو بحری جہازوں پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، نہ ہی عالمی معیشت کو یرغمال بنانا چاہیے۔”روبیو نے امریکی منصوبے “پروجیکٹ فریڈم” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں تقریباً 23,000 افراد مختلف ممالک سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے اسے “دفاعی آپریشن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ صرف اس وقت ردعمل دے گا جب اس پر حملہ کیا جائے گا۔روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے،ایرانی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہے،اور ملک کی زیادہ تر تجارت متاثر ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ سب ایران کی “جارحانہ پالیسیوں” کا نتیجہ ہے۔

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اصل مسئلہ لبنان یا اسرائیل نہیں بلکہ حزب اللہ ہے، جو لبنان کی سرزمین سے سرگرم ہے اور خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایک پائیدار جنگ بندی ممکن ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران روبیو نے صحافیوں کے شور شرابے پر مزاحیہ انداز میں کہا “This is chaos guys” (یہ تو مکمل افراتفری ہے)،جس پر ایک صحافی نے جواب دیا: “Welcome to the White House”۔

  • بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

    بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

    برطانیہ میں خواتین اور بچیوں کی حفاظت اور صنفی مساوات سے متعلق ایک تازہ سروے نے تشویشناک صورتحال کو سامنے لایا ہے، جس کے مطابق بڑی تعداد میں والدین کو خدشہ ہے کہ ان کی بیٹیاں مستقبل میں بھی عوامی مقامات پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کر سکیں گی۔

    یہ سروے فلاحی تنظیم پلان انٹرنیشنل یوکے کی جانب سے کیا گیا، جس میں سامنے آیا کہ تقریباً 80 فیصد والدین اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ان کی بیٹیاں بڑی ہو کر عوامی مقامات پر عدم تحفظ کا شکار ہوں گی۔ مزید یہ کہ 40 فیصد والدین کا ماننا ہے کہ یہ احساسِ عدم تحفظ ان کی اپنی نسل کے مقابلے میں کم عمری میں ہی شروع ہو جائے گا۔سروے میں شامل خواتین کے تجربات بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں،تقریباً 63 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ کبھی نہ کبھی عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کر چکی ہیں،58 فیصد خواتین نے غیر مطلوب جسمانی یا جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے،اور 41 فیصد کا خیال ہے کہ صنفی مساوات میں بہتری کے بجائے تنزلی ہو رہی ہے

    یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی خواتین کے لیے عوامی جگہیں مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھی جا رہیں۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں سے اہم سماجی موضوعات پر بات نہیں کرتی،42 فیصد والدین نے کبھی بھی اپنے بچوں سے صنفی مساوات پر بات نہیں کی،36 فیصد نے کبھی رضامندی کے موضوع پر گفتگو نہیں کی،جبکہ 27 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ آن لائن خطرناک مواد سے بچوں کی حفاظت کے لیے خود کو تیار یا اہل محسوس نہیں کرتے،ماہرین کے مطابق یہ خاموشی مستقبل میں بچوں کی آگاہی اور تحفظ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    پلان انٹرنیشنل یوکے نے ان نتائج کی بنیاد پر نئی مہم دی فائن پرنٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ لڑکیاں جن حالات میں پروان چڑھتی ہیں وہ اب بھی غیر مساوی اور غیر محفوظ ہیں۔تنظیم کے مطابق یہ نتائج ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں کہ صنفی مساوات کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اب بھی روزمرہ زندگی میں عدم تحفظ اور ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں۔
    حکومت کا ردعمل اور نئی حکمتِ عملی

    یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت نے دسمبر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کو آئندہ دس سال میں نصف کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی تھی۔اس منصوبے کے تحت اسکولوں میں اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ لڑکوں میں ابھرنے والے منفی اور انتہاپسند رویوں کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اس موقع پر کہا تھا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ “آئندہ نسل کے لیے ہماری ذمہ داری” ہے، اور معاشرے میں پھیلنے والے زہریلے خیالات کو ابتدائی سطح پر روکنا ضروری ہے۔

  • امریکی جیل "ریپ کلب” میں 300 خواتین سے زیادتی،آخری ملزم کو ملی سزا

    امریکی جیل "ریپ کلب” میں 300 خواتین سے زیادتی،آخری ملزم کو ملی سزا

    امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ایک بند کی گئی وفاقی خواتین جیل میں سامنے آنے والے مبینہ جنسی استحصال کے بڑے اسکینڈل کے آخری مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کیس میں قانونی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام بھی ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ امریکہ کی وفاقی جیل نظام کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی استحصال اسکینڈل سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی ڈسٹرکٹ جج نے جمعہ کے روز 32 سالہ سابق طبی عملے کے رکن جیفری ولسن کو 4.3 سال قید کی سزا سنائی۔ جیفری ولسن نے وفاقی خواتین جیل میں قید ایک خاتون قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا۔یہ جیل اوکلینڈ کے مشرق میں واقع تھی اور اسے طویل عرصے تک قیدیوں کی جانب سے غیر رسمی طور پر (ریپ کلب) کے نام سے جانا جاتا رہا، جہاں عملے کی جانب سے مبینہ بدعنوانی اور جنسی استحصال کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے۔ بالآخر 2024 میں یہ جیل بند کر دی گئی۔استغاثہ کے مطابق جیفری ولسن نے 2021 اور 2022 کے دوران ایک قیدی، جسے عدالتی دستاویزات میں “C.S.” کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی۔ وہ اس وقت جیل میں بطور میڈیکل ٹیکنیشن کام کر رہا تھا۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق ولسن نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدی سے تعلق قائم کیا، اسے خطوط، ذاتی گفتگو اور مختلف مراعات کے ذریعے متاثر کیا۔ بعد ازاں یہ تعلق مبینہ طور پر جنسی استحصال تک جا پہنچا۔استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ ملزم نے قیدی کو ایک کم نگرانی والے علاقے میں منتقل ہونے کی ترغیب دی اور اسے یہ کہا کہ وہاں “زیادہ آزادی” اور “مزید ملاقاتیں” ممکن ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر قیدی کو ممنوعہ موبائل فون، ویپ ڈیوائس، لپ اسٹک اور پری پیڈ کارڈ بھی فراہم کیے۔

    سماعت کے دوران جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا “یہ خواتین پہلے ہی ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور تھیں، اور آپ جیسے افراد نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا، جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے۔”استغاثہ کے وکیل اینڈریو پالسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ولسن نے قیدی کو “آہستہ آہستہ ذہنی طور پر قابو میں لیا” اور یہ ایک واضح طور پر شکاری رویہ تھا۔جیفری ولسن نے مختصر بیان میں اپنے عمل پر معافی مانگی، تاہم یہ بھی کہا کہ اس تعلق کو “رضامندی” سمجھا گیا تھا، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس نے اپنے ذاتی مسائل، ازدواجی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے کیے پر “ہر روز پشیمان رہے گا”۔اس کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ ملزم نے ماضی میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز میں کام کیا تھا، جہاں اسے ذہنی دباؤ اور تکلیف دہ تجربات کا سامنا رہا، جس کے اثرات اس کے رویے پر پڑے۔

    یہ مقدمہ اس بڑے اسکینڈل کا آخری کیس تھا جس میں جیل کے تقریباً 10 سابق ملازمین پر قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہوئے یا وہ سزا یافتہ قرار پائے۔جیل کے سابق وارڈن کو بھی 2023 میں تقریباً 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مجموعی طور پر 10 میں سے 9 افراد کو سزا ہوئی، جبکہ ایک ملزم ثبوت نہ ہونے یا دوبارہ ٹرائلز میں ناکامی کے بعد بری ہو گیا۔

    استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جیل میں برسوں تک ایک ایسا ماحول موجود رہا جہاں اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے رہے۔ان کے مطابق قیدیوں کی حفاظت پر مامور اہلکار خود ان کے استحصال میں ملوث رہے،نظامی نگرانی ناکافی تھی،اور اندرونی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا،اسی وجہ سے وفاقی جیل بیورو نے بالآخر اپریل 2024 میں اس ادارے کو بند کر دیا۔

    اس اسکینڈل کے بعد سینکڑوں سابق قیدی خواتین نے جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تقریباً 300 سے زائد خواتین نے وفاقی حکومت کے خلاف مختلف سول مقدمات دائر کیے،ان دعوؤں کے نتیجے میں پہلے ہی 116 ملین ڈالر کے ایک بڑے تصفیے کی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل انصاف ابھی باقی ہے۔

  • خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

    خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

    امریکی ریاست نیویارک میں ایک 23 سالہ خاتون ڈرائیور کے خلاف ایک گاہک کی نازیبا حالت میں خفیہ ویڈیو بنانے اور اسے ٹک ٹاک پر وائرل کرنے کے الزام میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

    ملزمہ اولیویا ہینڈرسن، جو ڈور ڈیش کے لیے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتی تھی، جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں ایک گرینڈ جیوری نے ان کے خلاف الزامات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عدالت میں ان کی جانب سے وکیل نے عدم جرم کی درخواست دائر کی۔عدالتی ریکارڈ اور پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ 12 اکتوبر 2025 کو پیش آیا، جب ہینڈرسن ایک ڈیلیوری کے لیے ایک گھر پر پہنچی۔ الزام ہے کہ انہوں نے دروازے کے باہر سے ہی ایک شخص کو ویڈیو میں ریکارڈ کیا جو صوفے پر بغیر پتلون کے بے ہوش حالت میں موجود تھا۔ یہ ویڈیو بعد ازاں ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی، جہاں یہ تیزی سے وائرل ہو کر تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) ویوز تک پہنچ گئی، تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق، ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کی ذاتی اور نجی حالت کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کیا گیا، جسے قانون کے تحت “پرائیویسی کی خلاف ورزی” اور “نازیبا نگرانی” قرار دیا جا رہا ہے۔ فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کی ایسی حالت میں تصویر کشی کی گئی جب اسے “نجی مقام پر مکمل رازداری کا حق حاصل تھا”۔

    دوسری جانب اولیویا ہینڈرسن نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک مبینہ ہراسانی کے واقعے کی رپورٹ کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق، وہ جب آرڈر ڈیلیور کرنے پہنچیں تو گھر کا دروازہ کھلا تھا اور اندر موجود شخص صوفے پر غیر مناسب حالت میں نظر آیا، جس پر انہوں نے اسے جنسی ہراسانی سمجھا۔تاہم تفتیشی حکام نے بعد میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص نشے کی حالت میں بے ہوش تھا اور اس نے نہ تو ڈرائیور سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی کوئی ہراسانی کی۔

    اولیویا ہینڈرسن کو ابتدائی سماعت کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور وہ آئندہ سماعت کے لیے جون میں دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گی۔ ان کی دسمبر 2025 کی پہلی پیشی کے بعد بھی یہ کیس سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا تھا۔جمعہ کے روز عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران جج نے میڈیا کیمرے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ عدالت کے باہر صحافیوں نے جب ہینڈرسن سے موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔