Baaghi TV

Blog

  • بنامیک اپ کرینہ کپور نے شیئر کیں تصاویر

    بنامیک اپ کرینہ کپور نے شیئر کیں تصاویر

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھا گئی ہیں، جہاں ان کی بغیر میک اپ کے قدرتی انداز میں لی گئی تصاویر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

    کرینہ کپور ان دنوں بھارت کی ریاست ہریانہ میں واقع تاریخی پٹودی پیلس میں اپنی فیملی کے ساتھ پرسکون چھٹیاں گزار رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی کئی تصاویر شیئر کیں جن میں ان کا سادہ، قدرتی اور پُرسکون انداز نمایاں نظر آتا ہے۔تصاویر میں کرینہ کپور کو بغیر میک اپ کے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ان کا قدرتی چہرہ، ہلکی مسکراہٹ اور کھلے بال ان کی شخصیت کو مزید دلکش بنا رہے ہیں۔ دھوپ میں لی گئی ان تصاویر میں ان کے چہرے کی قدرتی چمک مداحوں کو بے حد پسند آئی۔کرینہ کی ان تصاویر میں ان کا سادہ لباس اور قدرتی انداز مداحوں کے دل جیت رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے اس لک کو “ریئل بیوٹی” اور “ایفرٹ لیس گلیمر” قرار دیا ہے۔ تصاویر پوسٹ ہوتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔

    شیئر کی گئی تصاویر میں تاریخی پٹودی پیلس کی خوبصورت جھلک بھی نظر آتی ہے، جہاں قدیم طرزِ تعمیر، کشادہ صحن اور شاہانہ ماحول ان مناظر کو مزید دلکش بنا رہا ہے۔

    کام کے حوالے سے کرینہ کپور جلد ہی کرائم تھرلر فلم ‘دائرہ’ میں نظر آئیں گی، جس میں ان کا کردار پہلے سے زیادہ مضبوط اور منفرد بتایا جا رہا ہے۔اس سے قبل وہ روہت شیٹی کی ایکشن فلم ‘سنگھم اگین’ میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں، جس میں ان کے ساتھ اجے دیوگن، اکشے کمار، رنویر سنگھ، دیپیکا پڈوکون اور ٹائیگر شروف جیسے بڑے ستارے شامل تھے۔کرینہ کپور کی یہ نئی تصاویر نہ صرف ان کے فینز بلکہ عام سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی بے حد پسند کی جا رہی ہیں، اور ان کے قدرتی انداز کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

  • بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

    بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

    بھارت کی سیاست میں جہاں سیاسی خاندانوں کی حکمرانی ایک عام روایت سمجھی جاتی ہے، وہیں تمل ناڈو اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات 2026 میں ایک غیر معمولی اور حیران کن صورتحال نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تینوں کامیاب ہو کر رکن اسمبلی بن گئے۔

    یہ منفرد سیاسی خاندان لاٹری بزنس سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت سینٹیاگو مارٹن کا ہے، جن کے خاندان کے افراد نے مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے الگ الگ حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔سینٹیاگو مارٹن کی اہلیہ لیما روز مارٹن نے تمل ناڈو کے حلقے لال گڑی سے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (AIADMK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا،انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کوپا کرشنن کو تقریباً 2,700 ووٹوں سے شکست دی۔ یہ نشست طویل عرصے سے دراوڑ منیترا کزگم (DMK) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھی، تاہم دو دہائیوں بعد یہاں AIADMK نے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔ڈی ایم کے کے امیدوار ٹی پریولال بھی مقابلے میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ لیما روز مارٹن پہلے ایک اور سیاسی جماعت سے وابستہ تھیں لیکن انتخابات سے قبل وہ AIADMK میں شامل ہوئیں۔ کامیابی کے بعد انہیں پارٹی کی خواتین ونگ کی جوائنٹ سیکرٹری بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

    خاندان کے دوسرے کامیاب امیدوار آدھو ارجن ریڈی ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کی بیٹی ڈیزی مارٹن کے شوہر ہیں۔انہوں نے تمل ناڈو کے حلقے ولی وکم سے تملگا ویتری کژگم (TVK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ڈی ایم کے کے سینئر رہنما کارتک موہن کو 17,302 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔یہ نشست پچھلے دو انتخابات سے ڈی ایم کے کے پاس تھی، تاہم اس بار اپوزیشن نے اسے اپنے نام کر لیا۔آدھو ارجن ریڈی اداکار اور سیاست دان وجئے کی پارٹی TVK کے اہم رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور انہوں نے پارٹی کی انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔

    خاندان کے تیسرے کامیاب امیدوار جوس چارلس مارٹن ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کے بیٹے ہیں۔انہوں نے پڈوچیری اسمبلی کے حلقے کامراج نگر سے اپنی نئی سیاسی جماعت لتچیا جننایک کچی (LJK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 10 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کانگریس کے پی کے دیوداس اور TVK کے امیدوار کو شکست دی۔جوس چارلس مارٹن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اختلاف کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ بعد ازاں فروری 2026 میں اپنی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی۔انہوں نے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور “میک ان انڈیا” پروگرام کی تعریف بھی کی۔

    سینٹیاگو مارٹن بھارت میں لاٹری بزنس کے بڑے نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں لاٹری کاروبار سے آغاز کیا اور اپنی کمپنی Future Gaming and Hotel Services کو ملک کی بڑی لاٹری کمپنیوں میں شامل کر لیا۔مارچ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل الیکٹورل بانڈز کے معاملے کے بعد ان کا نام سیاسی فنڈنگ میں سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سامنے آیا۔ ان کی کمپنیوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو چندہ دیا۔تاہم بعد میں ان پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگے، جن کی تحقیقات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کیں۔ کئی بار ان کی کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے اور اربوں روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے۔فی الحال انہیں سپریم کورٹ سے عبوری ریلیف حاصل ہے، جبکہ ان کے لاٹری کاروبار سے متعلق مختلف ریاستوں میں قانونی سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

  • امریکہ امن چاہتا ہے،  لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

    امریکہ امن چاہتا ہے، لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک پریس بریفنگ اس وقت غیر معمولی اور دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ان سے ان کے "DJ نام” کے بارے میں سوال کیا گیا، جس کے جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہا”You’re not ready for my DJ name” (آپ میرے DJ نام کے لیے تیار نہیں ہیں)۔

    یہ سوال اس وقت کیا گیا جب روبیو کو ایک فیملی ویڈنگ میں DJ ڈیک کے پیچھے دیکھا گیا تھا، جس پر صحافیوں نے ان سے ان کا DJ نام پوچھ لیا۔

    مزاحیہ انداز کے بعد مارکو روبیو نے گفتگو کا رخ ایران کی صورتحال کی طرف موڑ دیا اور کہا کہ امریکہ امن چاہتا ہے،
    لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی موجودہ پالیسی اسے معاشی تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔روبیو نے سخت لہجے میں ایک مشہور ریپر آئس کیوب کے جملے کو دہراتے ہوئے کہا،انہیں خود کو درست کر لینا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ خود کو تباہ کر بیٹھیں،یہ جملہ انہوں نے ایران کی موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں استعمال کیا۔

    پریس کانفرنس میں روبیو نے چین پر زور دیا کہ وہ ایران کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ایران سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ اس کی سرگرمیاں اسے عالمی سطح پر تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا “آپ کو بحری جہازوں پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، نہ ہی عالمی معیشت کو یرغمال بنانا چاہیے۔”روبیو نے امریکی منصوبے “پروجیکٹ فریڈم” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں تقریباً 23,000 افراد مختلف ممالک سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے اسے “دفاعی آپریشن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ صرف اس وقت ردعمل دے گا جب اس پر حملہ کیا جائے گا۔روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے،ایرانی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہے،اور ملک کی زیادہ تر تجارت متاثر ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ سب ایران کی “جارحانہ پالیسیوں” کا نتیجہ ہے۔

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اصل مسئلہ لبنان یا اسرائیل نہیں بلکہ حزب اللہ ہے، جو لبنان کی سرزمین سے سرگرم ہے اور خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایک پائیدار جنگ بندی ممکن ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران روبیو نے صحافیوں کے شور شرابے پر مزاحیہ انداز میں کہا “This is chaos guys” (یہ تو مکمل افراتفری ہے)،جس پر ایک صحافی نے جواب دیا: “Welcome to the White House”۔

  • بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

    بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

    برطانیہ میں خواتین اور بچیوں کی حفاظت اور صنفی مساوات سے متعلق ایک تازہ سروے نے تشویشناک صورتحال کو سامنے لایا ہے، جس کے مطابق بڑی تعداد میں والدین کو خدشہ ہے کہ ان کی بیٹیاں مستقبل میں بھی عوامی مقامات پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کر سکیں گی۔

    یہ سروے فلاحی تنظیم پلان انٹرنیشنل یوکے کی جانب سے کیا گیا، جس میں سامنے آیا کہ تقریباً 80 فیصد والدین اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ان کی بیٹیاں بڑی ہو کر عوامی مقامات پر عدم تحفظ کا شکار ہوں گی۔ مزید یہ کہ 40 فیصد والدین کا ماننا ہے کہ یہ احساسِ عدم تحفظ ان کی اپنی نسل کے مقابلے میں کم عمری میں ہی شروع ہو جائے گا۔سروے میں شامل خواتین کے تجربات بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں،تقریباً 63 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ کبھی نہ کبھی عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کر چکی ہیں،58 فیصد خواتین نے غیر مطلوب جسمانی یا جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے،اور 41 فیصد کا خیال ہے کہ صنفی مساوات میں بہتری کے بجائے تنزلی ہو رہی ہے

    یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی خواتین کے لیے عوامی جگہیں مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھی جا رہیں۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں سے اہم سماجی موضوعات پر بات نہیں کرتی،42 فیصد والدین نے کبھی بھی اپنے بچوں سے صنفی مساوات پر بات نہیں کی،36 فیصد نے کبھی رضامندی کے موضوع پر گفتگو نہیں کی،جبکہ 27 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ آن لائن خطرناک مواد سے بچوں کی حفاظت کے لیے خود کو تیار یا اہل محسوس نہیں کرتے،ماہرین کے مطابق یہ خاموشی مستقبل میں بچوں کی آگاہی اور تحفظ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    پلان انٹرنیشنل یوکے نے ان نتائج کی بنیاد پر نئی مہم دی فائن پرنٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ لڑکیاں جن حالات میں پروان چڑھتی ہیں وہ اب بھی غیر مساوی اور غیر محفوظ ہیں۔تنظیم کے مطابق یہ نتائج ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں کہ صنفی مساوات کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اب بھی روزمرہ زندگی میں عدم تحفظ اور ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں۔
    حکومت کا ردعمل اور نئی حکمتِ عملی

    یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت نے دسمبر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کو آئندہ دس سال میں نصف کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی تھی۔اس منصوبے کے تحت اسکولوں میں اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ لڑکوں میں ابھرنے والے منفی اور انتہاپسند رویوں کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اس موقع پر کہا تھا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ “آئندہ نسل کے لیے ہماری ذمہ داری” ہے، اور معاشرے میں پھیلنے والے زہریلے خیالات کو ابتدائی سطح پر روکنا ضروری ہے۔

  • امریکی جیل "ریپ کلب” میں 300 خواتین سے زیادتی،آخری ملزم کو ملی سزا

    امریکی جیل "ریپ کلب” میں 300 خواتین سے زیادتی،آخری ملزم کو ملی سزا

    امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ایک بند کی گئی وفاقی خواتین جیل میں سامنے آنے والے مبینہ جنسی استحصال کے بڑے اسکینڈل کے آخری مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کیس میں قانونی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام بھی ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ امریکہ کی وفاقی جیل نظام کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی استحصال اسکینڈل سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی ڈسٹرکٹ جج نے جمعہ کے روز 32 سالہ سابق طبی عملے کے رکن جیفری ولسن کو 4.3 سال قید کی سزا سنائی۔ جیفری ولسن نے وفاقی خواتین جیل میں قید ایک خاتون قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا۔یہ جیل اوکلینڈ کے مشرق میں واقع تھی اور اسے طویل عرصے تک قیدیوں کی جانب سے غیر رسمی طور پر (ریپ کلب) کے نام سے جانا جاتا رہا، جہاں عملے کی جانب سے مبینہ بدعنوانی اور جنسی استحصال کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے۔ بالآخر 2024 میں یہ جیل بند کر دی گئی۔استغاثہ کے مطابق جیفری ولسن نے 2021 اور 2022 کے دوران ایک قیدی، جسے عدالتی دستاویزات میں “C.S.” کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی۔ وہ اس وقت جیل میں بطور میڈیکل ٹیکنیشن کام کر رہا تھا۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق ولسن نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدی سے تعلق قائم کیا، اسے خطوط، ذاتی گفتگو اور مختلف مراعات کے ذریعے متاثر کیا۔ بعد ازاں یہ تعلق مبینہ طور پر جنسی استحصال تک جا پہنچا۔استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ ملزم نے قیدی کو ایک کم نگرانی والے علاقے میں منتقل ہونے کی ترغیب دی اور اسے یہ کہا کہ وہاں “زیادہ آزادی” اور “مزید ملاقاتیں” ممکن ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر قیدی کو ممنوعہ موبائل فون، ویپ ڈیوائس، لپ اسٹک اور پری پیڈ کارڈ بھی فراہم کیے۔

    سماعت کے دوران جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا “یہ خواتین پہلے ہی ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور تھیں، اور آپ جیسے افراد نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا، جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے۔”استغاثہ کے وکیل اینڈریو پالسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ولسن نے قیدی کو “آہستہ آہستہ ذہنی طور پر قابو میں لیا” اور یہ ایک واضح طور پر شکاری رویہ تھا۔جیفری ولسن نے مختصر بیان میں اپنے عمل پر معافی مانگی، تاہم یہ بھی کہا کہ اس تعلق کو “رضامندی” سمجھا گیا تھا، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس نے اپنے ذاتی مسائل، ازدواجی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے کیے پر “ہر روز پشیمان رہے گا”۔اس کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ ملزم نے ماضی میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز میں کام کیا تھا، جہاں اسے ذہنی دباؤ اور تکلیف دہ تجربات کا سامنا رہا، جس کے اثرات اس کے رویے پر پڑے۔

    یہ مقدمہ اس بڑے اسکینڈل کا آخری کیس تھا جس میں جیل کے تقریباً 10 سابق ملازمین پر قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہوئے یا وہ سزا یافتہ قرار پائے۔جیل کے سابق وارڈن کو بھی 2023 میں تقریباً 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مجموعی طور پر 10 میں سے 9 افراد کو سزا ہوئی، جبکہ ایک ملزم ثبوت نہ ہونے یا دوبارہ ٹرائلز میں ناکامی کے بعد بری ہو گیا۔

    استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جیل میں برسوں تک ایک ایسا ماحول موجود رہا جہاں اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے رہے۔ان کے مطابق قیدیوں کی حفاظت پر مامور اہلکار خود ان کے استحصال میں ملوث رہے،نظامی نگرانی ناکافی تھی،اور اندرونی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا،اسی وجہ سے وفاقی جیل بیورو نے بالآخر اپریل 2024 میں اس ادارے کو بند کر دیا۔

    اس اسکینڈل کے بعد سینکڑوں سابق قیدی خواتین نے جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تقریباً 300 سے زائد خواتین نے وفاقی حکومت کے خلاف مختلف سول مقدمات دائر کیے،ان دعوؤں کے نتیجے میں پہلے ہی 116 ملین ڈالر کے ایک بڑے تصفیے کی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل انصاف ابھی باقی ہے۔

  • خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

    خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

    امریکی ریاست نیویارک میں ایک 23 سالہ خاتون ڈرائیور کے خلاف ایک گاہک کی نازیبا حالت میں خفیہ ویڈیو بنانے اور اسے ٹک ٹاک پر وائرل کرنے کے الزام میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

    ملزمہ اولیویا ہینڈرسن، جو ڈور ڈیش کے لیے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتی تھی، جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں ایک گرینڈ جیوری نے ان کے خلاف الزامات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عدالت میں ان کی جانب سے وکیل نے عدم جرم کی درخواست دائر کی۔عدالتی ریکارڈ اور پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ 12 اکتوبر 2025 کو پیش آیا، جب ہینڈرسن ایک ڈیلیوری کے لیے ایک گھر پر پہنچی۔ الزام ہے کہ انہوں نے دروازے کے باہر سے ہی ایک شخص کو ویڈیو میں ریکارڈ کیا جو صوفے پر بغیر پتلون کے بے ہوش حالت میں موجود تھا۔ یہ ویڈیو بعد ازاں ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی، جہاں یہ تیزی سے وائرل ہو کر تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) ویوز تک پہنچ گئی، تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق، ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کی ذاتی اور نجی حالت کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کیا گیا، جسے قانون کے تحت “پرائیویسی کی خلاف ورزی” اور “نازیبا نگرانی” قرار دیا جا رہا ہے۔ فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کی ایسی حالت میں تصویر کشی کی گئی جب اسے “نجی مقام پر مکمل رازداری کا حق حاصل تھا”۔

    دوسری جانب اولیویا ہینڈرسن نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک مبینہ ہراسانی کے واقعے کی رپورٹ کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق، وہ جب آرڈر ڈیلیور کرنے پہنچیں تو گھر کا دروازہ کھلا تھا اور اندر موجود شخص صوفے پر غیر مناسب حالت میں نظر آیا، جس پر انہوں نے اسے جنسی ہراسانی سمجھا۔تاہم تفتیشی حکام نے بعد میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص نشے کی حالت میں بے ہوش تھا اور اس نے نہ تو ڈرائیور سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی کوئی ہراسانی کی۔

    اولیویا ہینڈرسن کو ابتدائی سماعت کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور وہ آئندہ سماعت کے لیے جون میں دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گی۔ ان کی دسمبر 2025 کی پہلی پیشی کے بعد بھی یہ کیس سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا تھا۔جمعہ کے روز عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران جج نے میڈیا کیمرے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ عدالت کے باہر صحافیوں نے جب ہینڈرسن سے موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

  • آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، فلٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثرات نے نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو جس طرح بدل دیا ہے، اس پر ایک نئی کتاب نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    برطانوی مصنفہ فرییا انڈیا (Freya India) نے اپنی پہلی کتاب “Girls®” میں دعویٰ کیا ہے کہ آج کی نوجوان خواتین خود کو انسان کے بجائے ایک “پروڈکٹ” کی طرح دیکھنے لگی ہیں، جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر، پیک اور ریٹنگ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔“لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں”فرییا انڈیا، جو 26 سالہ مصنفہ ہیں، نے امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “نوجوان خواتین اب اپنے آپ کو ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھ رہی ہیں جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کو پیک کرتی ہیں اور پھر آن لائن لوگوں کی رائے اور ریٹنگ کا انتظار کرتی ہیں۔”ان کے مطابق یہ رجحان صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ ہے، جہاں انسانیت کی جگہ “ڈیجیٹل پریزنٹیشن” نے لے لی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کے مسائل کے دوران ایسے ڈیجیٹل ماحول میں گھری ہوئی ہیں جہاں چہرے بدلنے والے فلٹرز ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹولز،انسٹاگرام انفلوئنسرز کے مکمل طور پر ایڈٹ شدہ لائف اسٹائل شامل ہیں،ان کے مطابق یہ سب چیزیں حقیقی زندگی کے احساسات کو مزید پیچیدہ اور غیر حقیقی بنا رہی ہیں۔فرییا انڈیا لکھتی ہیں کہ جب نوجوان ذہنی دباؤ یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں ٹک ٹاک تھراپی ویڈیوز، یوٹیوب مشورے، اور آن لائن میڈیکل اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اصل علاج کے بجائے “فوری حل” پیش کرتے ہیں۔

    کتاب میں ڈیٹنگ ایپس اور پورن انڈسٹری کے اثرات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق آج کی نوجوان نسل کو محبت اور رشتوں کے حوالے سے بھی ایک مصنوعی دنیا میں رکھا جا رہا ہے، جہاں ٹنڈر جیسے ایپس انسانی تعلقات کو “سوائپ کلچر” میں بدل دیتے ہیں،انفلوئنسرز خوف اور کنفیوژن کو منافع میں تبدیل کرتے ہیں،نوجوان لڑکیوں کو اپنی فطری خواہشات پر بھی شرمندہ کیا جاتا ہے،فرییا انڈیا کے مطابق موجودہ بحران صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی تبدیلیاں بھی ہیں، جیسے مذہبی اور اخلاقی نظام کا کمزور ہونا،خاندانی ڈھانچے میں بگاڑ،کمیونٹی اور اجتماعی زندگی کا خاتمہ ہے،ان کے مطابق یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر اس نے “حقیقی تعلق” کے بجائے “ڈیجیٹل متبادل” فراہم کیے۔ مصنفہ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس چیز کو نقل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے “ہم صرف اسکرول کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، خرید رہے ہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن تنہائی کے ساتھ۔”

    فرییا انڈیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ خیال 2021 میں اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک کیفے میں کام کر رہی تھیں اور نوجوان لڑکیوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ یہی مشاہدات بعد میں ان کی کتاب کی بنیاد بنے۔

  • برطانیہ ، جنگ، تیل بحران ،قرضے،ایئر لائن کا بحران،چھٹیاں خطرے میں

    برطانیہ ، جنگ، تیل بحران ،قرضے،ایئر لائن کا بحران،چھٹیاں خطرے میں

    لندن: عالمی منڈیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد برطانیہ شدید معاشی دباؤ کی زد میں آ گیا ہے، جسے ماہرین نے “ٹرمپفلیشن شاک” قرار دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف حکومت کے اخراجاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہزاروں شہریوں کی موسمِ گرما کی تعطیلات بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔

    برطانیہ میں حکومتی قرض لینے کی لاگت گزشتہ 30 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 30 سالہ گورنمنٹ بانڈز کی ییلڈ 1998 کے بعد سب سے زیادہ ہو گئی، جبکہ 10 سالہ بانڈز بھی عالمی مالیاتی بحران کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران ہیں۔مارکیٹوں میں یہ خدشات بھی پائے جا رہے ہیں کہ اگر برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جماعت بلدیاتی انتخابات میں کمزور کارکردگی دکھاتی ہے تو پارٹی کے اندر بائیں بازو کی قیادت ابھر سکتی ہے، جس سے معاشی پالیسیوں پر مزید غیر یقینی پیدا ہوگی۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایران نے امریکی بحری جہازوں اور یو اے ای کے تیل ذخائر کو نشانہ بنانے کے بعد دوبارہ عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔امریکی حکام، جن میں دفاعی سیکریٹری شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ سیزفائر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم خطے میں صورتحال بدستور خطرناک ہے۔

    ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی شدید اثر پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مئی کے شیڈول میں دنیا بھر کی ایئرلائنز نے تقریباً 20 لاکھ سیٹیں کم کر دی ہیں۔ صرف دو ہفتوں میں 13 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا کم کی گئی ہیں۔کمپنیوں جیسے ریان ائیر کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مزید پروازیں بھی منسوخ کی جا سکتی ہیں۔بین الاقوامی توانائی ڈیٹا کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت دوبارہ بڑھ کر 181 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ سرمایہ کاری ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یورپ، خاص طور پر برطانیہ، جیٹ فیول کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ یورپ کا سب سے بڑا نیٹ امپورٹر ہے،ملک کے پاس کوئی اسٹریٹجک ریزرو نہیں،صرف چار آئل ریفائنریز فعال ہیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی متاثر رہی تو “فیول راشننگ” تک نوبت آ سکتی ہے۔خلیجی فضائی کمپنیاں جیسے قطر، اتحاد اور امارات 28 فروری سے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش اور ہوائی اڈے میں خلل کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نئے اعداد و شمار کے مطابق، اوسط عالمی جیٹ ایندھن کی قیمت گزشتہ ہفتے ایک ماہ میں پہلی بار بڑھ کر $181 (£134) فی بیرل ہوگئی۔

    ایئرلائن انڈسٹری کی تنظیموں کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو لاکھوں مسافروں کی موسمِ گرما کی چھٹیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ کئی پروازیں پہلے ہی منسوخ یا دوبارہ شیڈول کی جا رہی ہیں، جبکہ کچھ کمپنیوں نے عملے اور روٹس میں کمی شروع کر دی ہے۔یورپی کمیشن نے ایئرلائنز کو تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی ایئرلائنز کو اجازت دی ہے کہ وہ مسافروں کو مختلف فلائٹس میں ایڈجسٹ کر کے فیول بچا سکیں، تاہم صارفین کے حقوق کے حوالے سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد مستحکم نہ ہوئی تو عالمی معیشت، خاص طور پر برطانیہ، توانائی بحران، مہنگائی اور قرضوں کی بڑھتی لاگت کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں کی زندگی اور چھٹیوں کے منصوبوں پر پڑیں گے۔

  • مدرسے کے کمرے میں کمسن بچے کے ہاتھ  باندھ کر بدفعلی

    مدرسے کے کمرے میں کمسن بچے کے ہاتھ باندھ کر بدفعلی

    ضلع اوکاڑہ میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مدرسے میں زیرِ تعلیم کمسن بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ نامزد ملزمان فرار بتائے جاتے ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں عامر کالونی کے علاقے میں پیش آیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی محمد اظہر خان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کمسن بیٹا معمول کے مطابق مدرسہ گیا مگر چھٹی کے بعد گھر واپس نہ پہنچا۔ تلاش کے دوران جب وہ مدرسے پہنچے تو ایک کمرے سے بچے کی چیخ و پکار سنائی دی۔کمرے کا دروازہ بند تھا۔ جو سائل و برادرم نے کمرے کے بند دروازے کو دھکا دے کر کھولا تو ملزمان 1 توقیر ارسلان ولد محمد بخش قوم سنگوکا سکنہ چک نمبر 18/1 -2 محمد شهروز ولد شوکت قوم جٹ سکنہ بگیانہ تحصیل و ضلع اوکاڑہ جن کے کپڑے اترے ہوئے تھے اور ملزمان نے پسرم کے کیڑے بھی اتارے ہوئے تھے۔ اور پسرم کو الٹا لٹا کر دونوں ہاتھوں کو رسی سے باندھا ہوا تھا ملزم توقیر ارسلان بدفعلی کر رہا تھا جبکہ ملزم محمد شہروز نے پسرم کو ہاتھوں سے قابو کیا ہوا تھا ۔ ملزمان ہمیں دیکھ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سائل نے پسرم کے ہاتھوں کو رسی سے آزاد کروایا جو کہ نیم بہوشی کی حالت میں رو رہا تھا ۔ پسرم نے بتلایا کہ دونوں ملزمان نے میرے ساتھ زبردستی ہاتھ باندھ کر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے کر قابو کرکے باری باری بدفعلی کی ہے۔ موقع پر فورا مقامی پولیس کو اطلاع دی ۔ پولیس موقع پر آ گئی اور ملزمان کے کیڑے اور رسی قبضہ میں لیے۔ دونوں ملزمان نے میرے نابالغ معصوم بیٹے کے ساتھ باری باری زبردستی بدفعلی کرکے سخت زیادتی کی ہے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے بمطابق قانون سخت سے سخت سزا دی جائے۔

    پولیس حکام کے مطابق متاثرہ بچے کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

  • بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔عطا تارڑ

    بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان نے بیانیے اور سفارتی محاذ پر بھارت کو شکست دی

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت کے خلاف عظیم فتح دی۔پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے معرکہ حق میں انتہائی مثبت کردار ادا کیا۔فتح کے پیچھے پوری قوم کا جذبہ اور لگن موجود تھا۔ہم حق اور سچ پر تھے، سچائی کو شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔بھارت کی مکاری، جھوٹ اور منافقت سب پر عیاں ہے۔دنیا نے بھارت کے بیانیہ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔زندہ قومیں عزت اور وقارکے ساتھ اپنا مقام خود بناتی ہیں۔حق اور سچ پر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد موجود رہی۔

    ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل عامرریاض کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کو تاریخی کامیابی نصیب ہوئی،علامہ اقبالؒ نے واضح طور پر کہا کہ مسلمانوں کیلئے الگ ملک ہونا چاہیے، جدوجہد آزادی کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں ،آج پاکستان مضبوط ریاست کے طور پر کھڑا ہے،انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا بھارتی سیاست پر مکمل کنٹرول ہے،آر ایس ایس کا بنیادی ایجنڈا ہندوتوا کو تقویت دینا ہے،کشمیر آزادی کی تحریک ہے،پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا،پہلگام کا جھوٹا واقعہ بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی،