Baaghi TV


ایران پر حملوں پر ٹرمپ قانونی تنازع کا شکار، کانگریس کی قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام

‎امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد نہ صرف تہران کی جانب سے جوابی کارروائیاں سامنے آئی ہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر شدید سیاسی اور قانونی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس رو کھنہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کانگریس کی منظور کردہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس نے گزشتہ ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں صدر کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکیں یا مزید کسی بھی عسکری اقدام سے قبل کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔
‎اس کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز ایران کے فوجی اہداف پر حملے کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی اقدام کے جواب میں کی گئی۔
‎ان حملوں کے بعد ایران نے اتوار کے روز بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل دوسرے ہفتے بھی جوابی حملوں کے تبادلے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور 15 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
‎ادھر اسرائیل نے بھی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، حالانکہ جمعہ کے روز ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا اور مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
‎ڈیموکریٹک رکن کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حالیہ فوجی کارروائی کانگریس کی واضح ہدایات کے منافی ہے اور اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی آئینی ماہرین کے مطابق صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے اختیارات کے درمیان قانونی حدود پر فیصلہ عدالتوں اور آئندہ سیاسی پیش رفت سے واضح ہو سکتا ہے۔

More posts