تہران: ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ متعدد ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود رہے۔ تاہم ان تقریبات میں موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے عوام اور سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے۔ اس حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای، اہلیہ زہرا حداد عادل اور خاندان کے دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی تقریبات میں عدم شرکت کی بنیادی وجہ ان کی جان کو لاحق سیکیورٹی خطرات ہیں۔ تاہم علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود کی جنازے میں موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سیکیورٹی کی صورتحال سرکاری مؤقف سے زیادہ سنگین تو نہیں۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنازے میں شریک بعض شہریوں نے رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ 26 سالہ معصومہ کا کہنا تھا کہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی عوامی موجودگی ہمیشہ ریاستی استحکام اور سیکیورٹی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے، اس لیے ان کی غیر موجودگی عوامی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔دوسری جانب 35 سالہ فائزہ نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر مجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی سطح پر سامنے نہ آنا ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے، کیونکہ سابق رہبر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد نئے رہبر کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنازے کے جلوس کے موقع پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کو اسرائیل نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اسرائیل مخالف کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات کرے گا تو اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری کے باعث ان کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید زخم آئے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی روزانہ عوامی موجودگی روایت نہیں رہی، تاہم قومی بحرانوں، اہم مذہبی مواقع اور ریاستی تقریبات میں ان کی شرکت کو ملکی استحکام اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ غیر معمولی سیکیورٹی حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی قابلِ فہم ہو سکتی ہے، تاہم اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اندرونِ ملک ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
