Baaghi TV

Blog

  • 
سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی قیمت خطے کو چکانا پڑے گی، اسحاق ڈار

    
سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی قیمت خطے کو چکانا پڑے گی، اسحاق ڈار

    ‎اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات صرف دو ممالک کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی قوانین، ریاستوں کے درمیان اعتماد، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
    ‎اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور قومی معیشت سے براہ راست وابستہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرے گا اور کسی بھی غیرقانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔
    ‎وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، اس کی فراہمی روکنے یا آبی حقوق کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام پر دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حل کرنے کی راہ اپنائے۔
    ‎اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ریاستوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے، ممالک کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور اس عالمی نظام کو متاثر کرتی ہے جو قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، تعاون اور خوشگوار ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
    ‎سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت ملکی و غیر ملکی آبی ماہرین اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے آبی وسائل کے مؤثر تحفظ، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے تنازعات کا حل صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور عالمی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔

  • 
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں، سوگ تقریبات کا شیڈول جاری

    
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں، سوگ تقریبات کا شیڈول جاری

    ‎ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور سوگ کی تقریبات کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران، قم اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ اور تعزیتی اجتماعات کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ آخری رسومات کا سلسلہ عراق کے مقدس شہروں تک بھی جاری رہے گا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کے چند افراد کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کے وفود، مذہبی شخصیات اور لاکھوں زائرین کی شرکت متوقع ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق بین الاقوامی مہمانوں کی آمد جمعہ سے شروع ہوگی، جبکہ 4 اور 5 جولائی کو تہران کے مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں مرکزی سوگ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس کے بعد 6 جولائی کو انقلاب روڈ، لشکری روڈ اور آزادی روڈ پر نمازِ جنازہ کا بڑا اجتماع متوقع ہے، جس میں ایرانی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد شریک ہوں گے۔
    ‎زائرین کی سہولت کے لیے تہران اور گرد و نواح میں ہنگامی انتظامات کیے گئے ہیں۔ رہائش کے لیے 1,500 اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی ہاسٹلز کو مختص کیا گیا ہے، جبکہ مضافاتی علاقوں میں مزید 800 سے زائد تعلیمی اداروں کو عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
    ‎تہران کے بعد سوگ کی تقریبات قم میں منعقد ہوں گی، جہاں زائرین کی رہائش کے لیے سیکڑوں تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف، کربلا، کاظمین اور بغداد لے جانے کا پروگرام بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق عراق سے واپسی پر 9 جولائی کو مشہد میں الوداعی تقریب منعقد ہوگی، جس کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو حضرت امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  • 
قیدیوں کے فرار کا مقدمہ درج، 5 پولیس اہلکار بھی نامزد

    
قیدیوں کے فرار کا مقدمہ درج، 5 پولیس اہلکار بھی نامزد

    ‎راولپنڈی: کہوٹہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے فلمی انداز میں فرار ہونے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سہالہ میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں قیدیوں کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی پر مامور سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق قیدیوں کو لے جانے والی وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے۔ راستے میں 14 قیدی مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ 10 قیدی تاحال مفرور ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎ایف آئی آر کے متن کے مطابق اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران بعض قیدیوں نے شور شرابا اور جھگڑا شروع کر دیا۔ جب پولیس اہلکار انہیں روکنے کے لیے وین کا دروازہ کھولنے لگے تو ملزمان نے ان کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک دیں اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎تھانہ سہالہ میں درج مقدمے میں پولیس آرڈر 2002ء کی دفعہ 155-C اور 155-D بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق قیدیوں کی حراست اور سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

  • 
ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر، کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ

    
ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر، کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ

    ‎اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جبکہ مختلف شہروں میں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کئی علاقوں میں گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سرگودھا میں گرمی کی شدت 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ سکھر میں 52 ڈگری اور فیصل آباد میں 51 ڈگری سینٹی گریڈ محسوس کی گئی۔ اسی طرح دادو اور پشاور میں بھی گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق لاہور میں گرمی کی شدت 49 ڈگری، سیالکوٹ میں 48 ڈگری اور ملتان میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں سمندری ہواؤں کے باعث نسبتاً کم شدت ریکارڈ کی گئی، جہاں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
    ‎ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران شہری غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق دیگر طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • 
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی کی قید سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

    
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی کی قید سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

    ‎اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید کے خلاف دائر درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
    ‎جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواستوں پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ عدالت سب سے پہلے یہ طے کرے گی کہ آیا یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں، اس کے بعد ہی کیس کی مزید کارروائی آگے بڑھے گی۔
    ‎سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستیں قانون کے مطابق قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا انہیں مسترد کیا جائے۔
    ‎دوسری جانب درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، اس لیے عدالت اس معاملے کا جائزہ لے اور متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کا پابند بنائے۔
    ‎تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔

  • 
اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع

    
اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع

    ‎لاہور: سیشن کورٹ لاہور نے آن لائن جوا ایپ کی مبینہ تشہیر اور اس کی ترغیب دینے کے مقدمے میں معروف ٹک ٹاکرز اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔
    ‎ایڈیشنل سیشن جج نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر اقراء کنول اور اریب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ریلیف دیا جائے۔
    ‎سماعت کے دوران عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔
    ‎یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے دونوں ٹک ٹاکرز کے خلاف مبینہ طور پر ایک آن لائن جوا ایپ کی تشہیر کرنے اور عوام کو اس کے استعمال کی ترغیب دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
    ‎ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اقراء کنول اور اریب نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الگ الگ عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد انہیں عارضی ریلیف دیتے ہوئے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔
    ‎اب کیس کی آئندہ سماعت 7 جولائی کو ہوگی، جہاں عدالت مقدمے کے ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کرے گی۔

  • تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا رائے سازی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی جانے والی گفتگو اور بیانیے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے،پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا سیاسی سرگرمیوں کا سب سے مؤثر میدان بن کر سامنے آیا، مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا، اپنے کارکنوں کو منظم کیا، بیانیے تشکیل دیے اور مخالفین پر تنقید کی، اس ماحول میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو خاصی توجہ حاصل رہی لیکن پھر وقت بدلا، حالات بدلے،عمران خان آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے اور پھراسکے بعد پاکستان میں جو کردار تحریک انصاف نے نبھایاوہ کسی ملک دشمنی سے کم نہ تھا.

    نو مئی کا سانحہ وہ حقیقت ہے جس نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا،عسکری اداروں، شہداء کی یادگاروں پر حملے اور پھر مسلسل اداروں کے خلاف الزام تراشیاں‌،پروپیگنڈے،غرضیکہ پی ٹی آئی جس حد تک جا سکتی تھی گئی اور یہی وجہ بنی کہ آج سوشل میڈیا سے پی ٹی آئی کا وجود غائب ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی کا نام لیوا سوشل میڈیا پر سوائے چند ضمیر فروشوں کے کوئی نہیں رہا،عمران اڈیالہ میں ،پی ٹی آئی رہنما ایوانوں میں،جب پی ٹی آئی رہنما ہی عمران خان سے منہ موڑ گئے تو عوام کب تلک ساتھ دے، انصاف کے نام پر تحریک انصاف نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ ایک ایسی زندہ مثال ہے جو تاریخ میں لکھی جائے گی کہ نام نہادسیاسی جماعت گوگی و پنکی کے ہاتھوں یرغمال بنی اور نہ صرف ملک میں مالی کرپشن کی بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا اور ملکی استحکام،ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں بھی پیچھے نہ رہی.

    ایسے میں عوام ایک طرف پی ٹی آئی سے لاتعلق ہو چکی تو وہیں گزشتہ برس کا معرکہ حق، ،افغان رجیم کی جانب سے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کے ذریعے دہشتگردی، پاکستان کا افغان رجیم کے ٹکڑوں پر پلنے والے فتںہ الخوارج کیخلاف آپریشن،امریکہ ایران جنگ نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ایسے حالات میں سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کی قیادت کے حق میں اظہارِ یکجہتی کے مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، بھارت کا آپریشن سندور حقیقت میں بھارت کے لئے "آپریشن سندور” بن گیا،چند روز قبل بھارت نے اپنے معرکہ حق میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعلان کیا،افغان رجیم کی سازشوں ،دہشتگردی کا جس بہادری کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جواب دیا وہ سب کے سامنے ہے، امریکا ایران جنگ ہوئی تو دنیا دیکھ رہی تھی کہ انجام کیا ہو گا لیکن انجام پاکستان بنا رہا تھا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں و کاوشوں سے نہ صرف جنگ بندی ہوئی بلکہ معاہدہ بھی طے پا گیا،بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا لیکن کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا لیکن یہاں پاکستان دنیا کے سامنے امن کا علمبردار بن کر سامنے آیا اور امریکا ایران جنگ کا واحد ثالث بن کر خطے میں امن قائم کیا،

    یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر نگاہ دوڑائیں تو ہر طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام پیغامات ،تصاویریں ،عوامی جذبات دیکھنے کوملتے،35 پنکچرز کے بیانئے کی طرح عمران خان کے واحد مقبول شخصیت ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے،عمران خان نام کی کوئی چیز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی ،میرا اللہ جس کو چاہے عزت دے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ دنیا بھر میں گونج رہا ہے،آج پاکستانی معاشرہ حقیقت کو دیکھ اور تسلیم کر رہا ہے، معرکہ حق کی فتح قوم کے سامنے ہے،قوم کبھی ریاست کو کمزور کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ ملک کا دفاع کرنے والوں کو سلیوٹ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج پاکستانی قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں،ایکس،فیس بک، ٹک ٹاک غرضیکہ جس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جائیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا چمکتا دمکتا نام ہر طرف نظر آئے گا، سوشل میڈیا کی طاقت آج مسلح افواج کے لئے ہے اور پاکستانی عوام جہاں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے،سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اسی جذبے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے،پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست انجام کو پہنچ چکی اور پاکستانی قوم ایک بار پھر کلمہ کے نام پرحاصل کئے گئے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیت کی طرف لوٹ چکی، نفرت اور تفریق کو ترک کر رہی ہے اور شہرت کا نام نہاد بیانیہ دفنانے میں مصروف ہے۔

  • 
دوحا میں ایران امریکا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، فریقین کے متضاد مؤقف سامنے آگئے

    
دوحا میں ایران امریکا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، فریقین کے متضاد مؤقف سامنے آگئے

    ‎دوحا: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے وفود اس ہفتے قطر پہنچنے والے ہیں، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی تکنیکی وفد کا قطر کا دورہ معمول کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور اس کا امریکی وفد کی آمد سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔
    ‎دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت سونپی ہے۔ تاہم خود صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دوحا میں ممکنہ ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس بارے میں جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جون میں طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے جنگ بندی کو آگے بڑھانے، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور مستقل امن معاہدے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد پیش رفت سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو دوحا میں ایک اہم ملاقات متوقع ہے، تاہم اس کا مرکز جوہری مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور بحری سلامتی کے معاملات ہوں گے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق امریکی اور ایرانی تکنیکی ٹیمیں بدھ کے روز قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کر سکتی ہیں۔
    ‎اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ امریکا نے ایران پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ ایران نے جواباً بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
    ‎ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوحا میں مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

  • فیفا ورلڈکپ: نیدرلینڈز سے جیت کے بعد مراکشی کھلاڑی کا خوبصورت بیان

    فیفا ورلڈکپ: نیدرلینڈز سے جیت کے بعد مراکشی کھلاڑی کا خوبصورت بیان

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں نیدرلینڈز کے خلاف یادگار کامیابی کے بعد مراکش کے دفاعی کھلاڑی عیسیٰ دیوپ کا ایک مختصر مگر ایمان افروز بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

    فیفا ورلڈکپ 2026ء کے ناک آؤٹ مرحلے (راؤنڈ آف 32) میں نیدرلینڈز (ہالینڈ) کے خلاف تاریخی کامیابی کے بعد، مراکشی کوچ اور کھلاڑیوں نے میچ کے بعد کی پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں شکرِ خداوندی اور اپنی قوم کی محنت کا بھرپور اعتراف کیا، کھلاڑیوں نے اس جذباتی جیت کو اپنے ملک، دنیا بھر کے مسلمانوں اور افریقی شائقین کے لیے ایک عظیم اعزاز قرار دیا،کھلاڑیوں نے اپنی کامیابی کو اپنی محنت کے ساتھ ساتھ اللہ کی مدد سے منسوب کیا اور ہر مشکل مرحلے پر صبر اور شکر کا مظاہرہ کیا۔

    میچ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے عیسیٰ دیوپ نے کہا کہ’ہم مسلمان ہیں، ہم اس دنیا میں بہت تھوڑے وقت کے لیے آئے ہیں، ہر چیز اللہ کی ہے اور ہمیں ہر حال میں اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے-

    ان کے اس بیان کو دنیا بھر کے فٹبال شائقین، خصوصاً مسلم مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جارہا ہے،سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا کہ عیسیٰ دیوپ نے کامیابی کے موقع پر اپنی فتح کا سہرا اپنی محنت کے بجائے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو دے کر عاجزی اور ایمان کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔

    واضح رہے کہ مراکش نے نیدرلینڈز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں جگہ بنائی اس تاریخی کامیابی کے بعد عیسیٰ دیوپ کی گفتگو نہ صرف فٹبال حلقوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گئی جہاں ہزاروں صارفین نے ان کے الفاظ کو متاثر کن اور حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں-

    کوچ کے مطابق، مراکش نے پورا میچ شاندار انداز میں کنٹرول کیا۔ ان کا بنیادی ہدف دنیا بھر میں موجود اپنے کروڑوں مداحوں کے چہروں پر خوشی لانا تھا،س فتح کے بعد کھلاڑیوں اور کوچ نے زور دیا کہ مراکش کی ٹیم نے ایک بار پھر دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کے مدِ مقابل ڈٹ کر کھیلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں،اس سنسنی خیز مقابلے میں مراکش نے نیدرلینڈز کو پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے 2-3 سے شکست دے کر ورلڈکپ کے پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) میں رسائی حاصل کی تھی-

  • پاکستان انٹرنیشنل اولیو کونسل کا مستقل رکن بن گیا

    پاکستان انٹرنیشنل اولیو کونسل کا مستقل رکن بن گیا

    پاکستان نے پہلی بار اقوام متحدہ کے تحت قائم انٹرنیشنل اولیو کونسل(آئی او سی) کا مستقل رکن بن گیا ہے-

    مئی 2026 میں انٹرنیشنل اولیو کونسل (International Olive Council)کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو 27 دیگر زیتون پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ کونسل کے 123ویں اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی، جہاں کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چیئرمین اور رکن ممالک نے پاکستان کا خیرمقدم کیا۔

    پاکستان نے منگل کے روز پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہونے والے 123ویں اجلاس میں اپنی نشست سنبھالی،وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، جبکہ پرتگال میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

    مئی 2026 میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو پہلی مرتبہ کونسل کے 123ویں اجلاس میں دیگر 27 زیتون پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ شرکت کی دعوت دی گئی،اجلاس میں انٹرنیشنل اولیو کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چیئرمین اور تمام رکن ممالک نے پاکستان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اپنے خطاب میں کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ادارے کے مقاصد اور اہداف کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا، پاکستا ن میں زیتون کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک بھر میں 55,669 ایکڑ رقبے پر 70 لاکھ سے زائد زیتون کے درخت کاشت کیے جا چکے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں زیتون کے کلسٹرز بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت سے لے کر صارف تک پہنچانے کے لیے مکمل فارم ٹو فورک ویلیو چین قائم کی جا چکی ہے، جس میں 51 اولیو آئل ایکسٹریکشن یونٹس، جدید پراسیسنگ سہولیات، نرسریاں، موسمیاتی اسٹیشنز اور آئی او سی کے معیار کے مطابق 4 کوالٹی لیبارٹریاں شامل ہیں، پاکستان اب تصدیق شدہ زیتون کے پودوں کی مقامی سطح پر پیداوار میں خود کفیل ہو چکا ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ زیتون کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے باعث پاکستان کو گزشتہ سال نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن میں سلور ایوارڈ بھی حاصل ہوا تھاانہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی زیتون کے تیل اور ٹیبل اولیو سیکٹر کی پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ترقی کے لیے انٹرنیشنل اولیو کونسل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔