Baaghi TV


دوحا میں ایران امریکا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، فریقین کے متضاد مؤقف سامنے آگئے

‎دوحا: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے وفود اس ہفتے قطر پہنچنے والے ہیں، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔
‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی تکنیکی وفد کا قطر کا دورہ معمول کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور اس کا امریکی وفد کی آمد سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔
‎دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت سونپی ہے۔ تاہم خود صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دوحا میں ممکنہ ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس بارے میں جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
‎رپورٹس کے مطابق جون میں طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے جنگ بندی کو آگے بڑھانے، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور مستقل امن معاہدے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد پیش رفت سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔
‎ذرائع کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو دوحا میں ایک اہم ملاقات متوقع ہے، تاہم اس کا مرکز جوہری مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور بحری سلامتی کے معاملات ہوں گے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق امریکی اور ایرانی تکنیکی ٹیمیں بدھ کے روز قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کر سکتی ہیں۔
‎اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ امریکا نے ایران پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ ایران نے جواباً بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
‎ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوحا میں مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

More posts