Baaghi TV

Blog

  • پنجاب میں سی ٹی ڈی کے  آپریشنز، 21 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کے آپریشنز، 21 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب بھر میں سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں تیز ہو گئیں، جہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے رواں ہفتے کے دوران مختلف شہروں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرتے ہوئے 21 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور سے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد پیر شمس کو بارودی مواد سمیت حراست میں لیا گیا۔ اسی طرح ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستہ دہشت گرد عبداللطیف کو بھی دھماکا خیز مواد سمیت گرفتار کیا گیا۔
    حکام کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈی بم اور ڈیٹونیٹر برآمد ہوئے ہیں، جو ممکنہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونا تھے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد صوبے کے مختلف حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا گیا۔گرفتار ملزمان میں مصباح، سمیع اللّٰہ، گلاب خان ریمان، طور خان، زارین شاہ، ضیاء الرحمٰن، عظیم اللّٰہ اور عبدالصمد سمیت دیگر شامل ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ صوبے بھر میں سرچ آپریشنز کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔

  • معرکہ حق، مرکزی مسلم لیگ کا عشرہ فتح کا اعلان، ملک گیر تقریبات کا شیڈول جاری

    معرکہ حق، مرکزی مسلم لیگ کا عشرہ فتح کا اعلان، ملک گیر تقریبات کا شیڈول جاری

    مرکزی مسلم لیگ نے معرکہ حق، بنیان مرصوص کا ایک برس مکمل ہونے پر عشرہ فتح کا دس روزہ شیڈول جاری کر دیا، مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی قائدین کا کہنا ہے کہ زندہ قومیں فتح کے جشن مناتی ہیں، گزشتہ برس مئی میں دشمن کے حملے کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر رہا،زمین ،فضاؤں میں پاکستان کی مسلح افواج کا راج تھا، دس مئی تک ملک گیر تقریبات ہوں گی، جمعہ کو قوم شہدا کے ورثا سے ملاقاتیں کر کے یہ پیغام دے کہ شہدا کی قربانیوں کی بدولت پاکستان قائم و دائم ہے،دفاع وطن کے لئے پاکستانی قوم کل بھی بنیان مرصوص تھی، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی،

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، سیکرٹری جنرل چوہدری حمید الحسن گجر نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ معرکہ حق بنیان مرصوص،فتح کو ایک سال مکمل ہونے پر عشرہ فتح پورے ملک میں منا رہی ہے، کل یکم مئی کو یوم مزدور کے ساتھ ساتھ علماء کرام نے خطبات جمعہ میں بنیان مرصوص کو موضوع بنایا،ہفتہ ،اتوار کو ملک بھر میں اے پی سیز اضلاع،تحصیلوں کی سطح پر ہوں‌گی، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں‌کو دعوت دے رہے ہیں، منگل، بدھ کو مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ جات طلبا ، وکلا ،یوتھ،اساتذہ کے پروگرام ملک بھر میں ہوں گے،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر پروگرام ہوں گے، جمعرات کو خواتین کے ملک بھر میں بنیان مرصوص کے حوالہ سے تقریبات ہوں گی،جمعہ کو خطبات جمعہ میں علماء کرام پاکستان کے دفاع ، بنیان مرصوص، فتح مبین کے حوالہ سے خطاب کریں گے، جمعہ کو ہی ملک کے لئے قربانیاں دینے والے عظیم شہدا کے گھروں میں مرکزی مسلم لیگ کے رہنما، کارکنان حاضری دیں گے،مہم کے آخری چار دن ملک بھر میں فلوٹس اور گاڑیاں چلائی جائیں گی جن میں پاکستان کی عظیم فتح کو قوم کے سامنے رکھا جائے گا،سوشل میڈیا پر بھی معرکہ حق،بنیان مرصوص بارے بھر پور مہم چلائی جائے گی، یونین کونسل سطح پر ملک بھر میں کیمپ لگائے جائیں گے، 9 اور 10 مئی کو بھرپور ریلیاں نکالی جائیں گی، غباروں کو فلیکسز اور بینر لگا کر فضا میں چھوڑا جائے گا،مشعل بردار ریلیز کا انعقاد بھی کیا جائے گا، دنیا کو بتائیں گے کہ پاکستان پرامن ملک ہے جارحیت نہیں کرتا لیکن اگر کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھے تو آنکھ نہیں رہنے دیتے، ہم ملک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں،مرکزی مسلم لیگ مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے، مرکزی مسلم لیگ علاقائی ،لسانی تقسیم سے قوم کو باہر نکالنا چاہتی ہے،

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ اللہ نے گزشتہ سال پاکستان کو ناقابل تسخیر دفاع کی نعمت عطا کی، ایک سال پورا ہونے پر پوری قوم اللہ کا شکر ادا کرتی ہے، پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہے، یہ فتح کسی سیاسی پارٹی کی نہیں بلکہ قوم کی فتح ہے، 25 کروڑ عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جذبے کے ساتھ فتح مبین منائیں، پروگراموں،تقریبات میں شریک ہوں، ہم پاک فضائیہ کے شاہینوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کے دفاع میں شہادتیں دیں، شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں، مرکزی مسلم لیگ یہ اظہار کرتی ہے کہ دفاع وطن کے لئے ہم متحد بھی ہیں، متفق بھی ہیں اور وطن کا دفاع بھی کریں گے، اسکے نظریئے کا تحفظ بھی کریں گے، دفاع پاکستان کے لئے آخری سانس تک سب کچھ قربان کریں گے،یہ تجدید عہد کے دن ہیں، قوم میں جذبے پیدا کرنے کے دن ہیں ،عشرہ فتح میں میڈیا بھی بھرپورکردار ادا کرے،

    مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ماہ مئی میں میڈیا کا کردار بہت بہترین تھا، میڈیا نے حب الوطنی کا حق ادا کیا،دشمن کی طرف سے جھوٹ پھیلایا گیا لیکن پاکستانی میڈیا، صحافیوں ، اینکرز، نیوزکاسٹر نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا جس پر ہم شکریہ ادا کرتے ہیں، میڈیا کے مثبت کردار کی وجہ سے قوم متحد رہی، ماضی میں جس طرح میڈیا نے کردار ادا کیا اسی انداز میں بھی اب عشرہ فتح میں کردار ادا کریں گے، قوم میں اتحاد و اتفاق کی فضا بنانے کی کوشش کریں گے،

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل چوہدری حمیدالحسن گجر کا کہنا تھا کہ لاہور زندہ دلان کا شہر، پاکستان کا دل ہے، لاہور میں فتح کے جشن کو پوری شان و شوکت، جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا دنیا دیکھے گی کہ پاکستان فاتح ملک ہے، ہم نے مختلف پروگرام ترتیب دیئے ہیں، وکلا، تاجر ،طلبا،خواتین کے پروگرام ہوں‌گے، 9 اور 10 مئی کو بہت بڑا فتح کا کارواں ہو گا، اس رات پورا لاہور جاگے گا اور پیغام دے گا کہ لاہور ملک کے دفاع کے لئے اپنی افواج کے ساتھ ہے،ملی رکشہ یونین کی بھی ریلی ہو گی.

  • سابق چیئرمین نادراطارق ملک 25 ٹاپ ماہرین میں شامل

    سابق چیئرمین نادراطارق ملک 25 ٹاپ ماہرین میں شامل

    نادرا کے سابق چیئرمین اور ورلڈ بینک کے موجودہ مشیر پاکستانی نژاد طارق ملک کی ڈیجیٹل شناخت اور پبلک انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں مہارت، خدمات اور صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں اس شعبے کے دنیا بھر میں ماہر ترین 25 افراد میں تسلیم کرلیا گیا ہے۔

    ان 25 ماہرترین افراد کے نام اور تصاویر 4 مئی کی صبح عالمی شہرت یافتہ ٹائمز اسکوائر نیویارک کی اسکرین پر پیش کرکے اعلان کیا جائے گا۔ڈیجیٹل شناخت، آئی کلاؤڈ اور سائبر سکیورٹی کے عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارم (OKTA) نے دنیا بھر میں اس شعبے سے ایسے 25 افراد کا انتخاب کیا جن کی مہارت اور خدمات نے ڈیجیٹل شناخت، سکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹرسٹ کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنی مہارت کے اثرات مرتب کیے ہیں،نامور پاکستانی محقق اور دانشور پروفیسر فتح ملک کے صاحبزادے طارق ملک ورلڈ بینک کے موجودہ ٹیکنیکل ایڈوائزر کے عہدے سے قبل اقوام متحدہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ کے ڈیجیٹل نظام کے خالق بھی ہیں۔

    اپنے ایک نجی دورہ امریکا کے دوران بے نظیر بھٹو شہید کی ملاقات طارق ملک سے ہوئی تھی اور بے نظیر بھٹو نے طارق ملک کو پاکستان آنے اور ملک کی خدمت کرنے پر آمادہ کیا۔ پھر طارق ملک نے اپنی ماہرانہ صلاحیتوں کے ساتھ پاکستان میں اپنی خدمات انجام دیں، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی نادرا، ڈیجیٹل شناخت اور سکیورٹی کے نظام کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق استوار کرنے میں پیش پیش رہے حتیٰ کہ نادرا کے چیئرمین بھی رہے۔

  • افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری،    قبائلی ردعمل

    افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری، قبائلی ردعمل

    جنوبی وزیرستان (انگور اڈا) میں افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری- قبائلی ردعمل اور مؤقف سامنے آگیا

    جنوبی وزیرستان لوئر کے سرحدی علاقے انگور اڈا میں افغان طالبان کی 26 اور 29 اپریل کو سول آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں متعدد معصوم مرد، عورتیں اور بچے شدید زخمی ہوئے اور شہری املاک کو نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے دوران دو مرد، تین خواتین اور چار معصوم بچے شدید زخمی ہوئے جن کا علاج ڈی ایچ کیو وانا اور سی ایم ایچ پشاور میں جاری ہے۔ اہلِ علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے جاری گولہ باری سے نہتے شہریوں، خصوصاً بچوں کو مسلسل نشانہ بنانے کے علاوہ سول املاک کو نقصان پہنچ رہاہے جو ناقابل قبول ہے۔ ان مسلسل حملوں کے نتیجے میں علاقے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا ہوئی ہے، تاہم قبائلی عمائدین نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے اور ہر محاذ پر ڈٹ کرافواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہر قسم کی افغان جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ متاثرہ افراد کے ورثا ءاور علاقائی عمائدین نے افواج پاکستان کی جانب سے بروقت اور بہتر علاج کی سہولیات مہیا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

  • پاک فضائیہ کیلیے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے امریکی پیکج کی منظوری

    پاک فضائیہ کیلیے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے امریکی پیکج کی منظوری

    امریکہ نے ایف-16 طیاروں کے ریڈار نظام کی دیکھ بھال اور معاونت کے لیے 488 ملین ڈالر تک کا ایک بڑا معاہدہ کیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ پیش رفت ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔

    یہ معاہدہ اس ہفتے کے آغاز میں امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے کیا گیا، جس کے تحت ایک دفاعی ادارہ ایف-16 کے ریڈار نظاموں کے لیے فنی اور انجینئرنگ معاونت فراہم کرے گا۔اس اعلیٰ سطحی دفاعی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اور “واحد ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی بھی کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت میں پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں شاندار شخصیات اور بہترین جنگجو قرار دیا۔

    اس پیکج کی مجموعی مالیت تقریباً 686 ملین امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے، جسے دفاعی ماہرین پاکستان کی فضائی صلاحیتوں میں اہم اضافہ قرار دے رہے ہیں،اس معاہدے کا بڑا حصہ، جس کی مالیت تقریباً 488 ملین ڈالر ہے، ایک IDIQ (Indefinite Delivery/Indefinite Quantity) کنٹریکٹ کے تحت دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے ایف-16 طیاروں میں نصب پرانے AN/APG-66 اور AN/APG-68 ریڈار سسٹمز کی کارکردگی کو برقرار رکھنا اور مرحلہ وار بہتر بنانا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف-16 طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی بہتری پاکستان کو نہ صرف اپنی فضائی حدود کے دفاع میں مدد دے گی بلکہ ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت بھی فراہم کرے گی۔یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون بدستور قائم ہے، اگرچہ ماضی میں اس تعلق میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن پاکستان فضائیہ کی آپریشنل تیاری، جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی اور خطے میں دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • بل گیٹس جیفری ایپسٹین سے روابط پر گواہی دیں گے

    بل گیٹس جیفری ایپسٹین سے روابط پر گواہی دیں گے

    بل گیٹس جو دنیا کے معروف ارب پتی اور مخیر شخصیت ہیں، جون میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہو کر بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے روابط کے حوالے سے گواہی دیں گے۔ قانون سازوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

    یہ گواہی امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کے اس بڑے تحقیقاتی عمل کا حصہ ہے جس میں ایپسٹین کے جرائم اور اس کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گیٹس ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے رضاکارانہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سماعت 10 جون کو متوقع ہے۔گیٹس کے ترجمان کے مطابق، وہ کمیٹی کے تمام سوالات کے جواب دینے اور تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ ایپسٹین کے کسی بھی متاثرہ فرد نے گیٹس پر کسی قسم کی بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا، اور نہ ہی تحقیقاتی دستاویزات میں ان کا ذکر کسی مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے رواں سال جاری کیے گئے 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات میں گیٹس اور ایپسٹین کے درمیان رابطوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ تاہم، ابھی مزید لاکھوں دستاویزات منظر عام پر آنا باقی ہیں۔ یہ انکشافات اس قانون کے تحت سامنے آئے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ نومبر میں دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایپسٹین سے متعلق تمام مواد کو جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

    اس سے قبل ایک انٹرویو میں گیٹس نے کہا تھا، “میں نے اس کے ساتھ جتنا وقت گزارا، اس پر مجھے افسوس ہے اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔”

  • ایران جنگ،سعودی عرب میں شراب کی قلت پیدا ہو گئی

    ایران جنگ،سعودی عرب میں شراب کی قلت پیدا ہو گئی

    عودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم ملک کی واحد سرکاری شراب کی دکان ان دنوں شدید قلت کا شکار ہے، جہاں بیئر اور وائن سے لے کر ٹیکلا تک متعدد مصنوعات دستیاب نہیں رہیں۔

    صارفین کے مطابق خطے میں ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے درآمدی اشیا کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔یہ دکان ریاض کے سفارتی علاقے میں واقع ہے اور بغیر کسی نام یا نمایاں سائن بورڈ کے خاموشی سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس دکان کا قیام 2024 میں عمل میں لایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد غیر مسلم سفارت کاروں کو محدود اور کنٹرولڈ ماحول میں شراب فراہم کرنا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں اس سہولت کو وسعت دیتے ہوئے امیر غیر مسلم غیر ملکیوں تک بھی رسائی دی گئی۔

    تاہم سعودی عرب میں شراب پر پابندی کا قانون بدستور نافذ ہے، جو 1952 سے ملک میں لاگو ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں مملکت نے اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں و ماہرین کو راغب کرنے کے لیے بعض سماجی و اقتصادی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں محدود پیمانے پر شراب کی دستیابی بھی شامل ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حالیہ دنوں میں اس دکان کا دورہ کرنے والے کم از کم پانچ افراد نے بتایا کہ دکان کی شیلف زیادہ تر خالی ہیں اور صرف مہنگے یا کم معروف برانڈز ہی دستیاب ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے جہاں مختلف عالمی برانڈز باآسانی دستیاب تھے، اب وہاں انتخاب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف اس دکان بلکہ دیگر درآمدی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے وسیع معاشی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے

  • لاہور،گولیاں چل گئیں، خاتون اور دو بچوں کی موت،ملزم نے بھی خود کشی کر لی

    لاہور،گولیاں چل گئیں، خاتون اور دو بچوں کی موت،ملزم نے بھی خود کشی کر لی

    لاہور کے علاقے مزنگ میں نوجوان نے خاتون اور اس کے 2 بچوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 35 سالہ عائشہ، 14 سالہ مفرہ، 12 سالہ منیب اور 45 سالہ شاہد شامل ہے،فائرنگ کے اس واقعے میں 8 سالہ مناہل اور 18 سالہ سمنہ زخمی ہوئی ہیں،پولیس کے مطابق لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ فلیٹ کے اندر پیش آیا، ابتدائی طور پر وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں، تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے

  • معروف کبڈی پلیئر کے قاتلوں کو سزا سنا دی گئی

    معروف کبڈی پلیئر کے قاتلوں کو سزا سنا دی گئی

    قصور
    نواحی قصبہ کھڈیاں خاص کے معروف کبڈی پلیئر نصراللہ عرف ناصر کو دورانِ ڈکیتی قتل کرنے کا معاملہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے تھانہ الہٰ آباد کی حدود مائی رابو کے قریب کچھ عرصہ قبل ڈاکوؤں کی فائرنگ سے معروف کبڈی پلیئر کو قتل کیا گیا تھا

    الہ آباد کے نواحی گاؤں گہلن ہٹھاڑ کے رہائشی دو ملزمان، رفاقت ولد رفیق ایبک اور مدثر بشیر ولد محمد بشیر، دونوں کو چونیاں کی مقامی عدالت نے 190 دنوں میں فیصلہ سناتے ہوئے عمر قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی
    فاضل جج واجد منہاس نے یہ فیصلہ سنایا

    واضح رہے کہ ملزمان کا تیسرا ساتھی عامر پہلے ہی پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔

  • لاس اینجلس کے خفیہ اور مہنگے ترین کلب کی ایک رات ،باہمی رضامندی ضروری

    لاس اینجلس کے خفیہ اور مہنگے ترین کلب کی ایک رات ،باہمی رضامندی ضروری

    امریکی شہر لاس اینجلس کے پوش علاقے ہالی ووڈ ہلز میں قائم ایک انتہائی خفیہ اور مہنگے نجی کلب کی سرگرمیوں نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں ایک صحافی کی شرکت نے نہ صرف اس کی ذاتی سوچ کو بدل دیا بلکہ اس قسم کی تقریبات کے بارے میں نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

    یہ کلب، جو 2013 میں بیورلی ہلز میں قائم کیا گیا تھا، ایک نجی ممبرشپ پر مبنی ادارہ ہے جہاں مخصوص افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہاں ہونے والی تقریبات میں ماسکریڈ (نقاب پوش) پارٹیاں، پُرتعیش ڈنرز اور خصوصی سوشل ایونٹس شامل ہوتے ہیں، جن کا مقصد شرکاء کو ایک مختلف اور آزاد ماحول فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔کلب میں داخلے کے لیے نہ صرف بھاری سالانہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے بلکہ ایک سخت جانچ پڑتال کے عمل سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔ ممبرشپ فیس ہزاروں ڈالرز سے لے کر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ تک ہو سکتی ہے۔ تقریب میں شریک افراد کے موبائل فون دروازے پر ہی جمع کرا لیے جاتے ہیں تاکہ مکمل رازداری برقرار رکھی جا سکے۔

    صحافی کے مطابق تقریب ایک پُرتعیش حویلی میں منعقد ہوئی جہاں داخل ہوتے ہی ایک منفرد ماحول محسوس ہوا۔ ہلکی روشنی، موسیقی اور آرٹسٹک انداز میں ترتیب دی گئی سرگرمیوں نے اسے ایک عام پارٹی سے مختلف بنا دیا۔ مہمان مختلف عمر کے افراد پر مشتمل تھے اور سب کو مکمل آزادی دی گئی تھی کہ وہ اپنی حدود کے مطابق شرکت کریں۔اس کلب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے سخت اصول ہیں، جن میں باہمی رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذاتی تعامل سے پہلے واضح اجازت ضروری ہوتی ہے، جس سے شرکاء خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

    صحافی کا کہنا تھا کہ ابتدا میں یہ تجربہ عجیب اور مشکل محسوس ہوا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے خود کو زیادہ پُراعتماد اور کھلا ہوا محسوس کیا۔ اس کے مطابق اس ماحول نے نہ صرف اس کے اپنے جذبات کو سمجھنے میں مدد دی بلکہ اس کے اپنے شریکِ حیات کے ساتھ تعلق میں بھی ایک نئی گہرائی پیدا کی۔

    کلب کی تخلیقی ڈائریکٹر کے مطابق اس قسم کی تقریبات کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ انسان کو اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور احساسات کو قبول نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے۔اگرچہ اس طرح کے کلبز کو کچھ حلقوں میں آزادی اور خود اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقدین اسے اخلاقی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے رجحانات پر معاشرتی اور نفسیاتی اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔