Baaghi TV

دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

زر کی نہیں، یہ فکر کی دولت کا پیام
ہر باب میں ہے نورِ بصیرت کا مقام

اخلاق احمد ساغر

عہدِ حاضر میں جب مادّی ثروت کو کامیابی کا معیار، زر و جواہر کو عظمت کا مدار اور دولت و شہرت کو رفعت کا شعار سمجھ لیا گیا ہے، ایسے پُرفتن ماحول میں علامہ عبدالستار عاصم نے "999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” تصنیف کرکے ایک نئی جہت، ایک نیا شعور اور ایک نیا دستور پیش کیا ہے۔ یہ کتاب صرف اعداد و شمار کا دفتر نہیں بل کہ افکار کا سمندر، کردار کا دفتر، اسرار کا مظہر اور انوار کا منبع ہے۔ اس کے صفحات پر وہ ہستیاں جلوہ گر ہیں جنھوں نے اپنی بصیرت سے زمانوں کو منور کیا، اپنی فراست سے تہذیبوں کو سنوارا، اپنی ریاضت سے علم کے چراغ روشن کیے اور اپنی عظمت سے انسانیت کو نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر سے بڑھ کر ولتِ فکر، ثروتِ مال سے بلند تر ثروتِ کمال اور سرمایۂ دنیا سے کہیں زیادہ سرمایۂ شعور و وقار کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔
یہ کتاب محض ٹریلین ڈالروں کی حکایت نہیں بل کہ اُن اربابِ علم و ہنر، اصحابِ فکر و نظر، صاحبانِ تدبر و بصیرت، اور معمارانِ تہذیب و تمدن کی زندہ داستان ہے جنھوں نے اپنی عقل سے جہالت کے اندھیروں کو شکست دی، اپنی حکمت سے زمانوں کو روشنی بخشی، اپنی ریاضت سے انسانیت کو رفعت بخشی اور اپنے کردار سے تاریخ کے ماتھے پر دوام و بقا کے چراغ ثبت کر دیے۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر کی نہیں، دولتِ فکر کی؛ ثروتِ مال کی نہیں، ثروتِ کمال کی؛ اور سرمایۂ دنیا کی نہیں، سرمایۂ شعور و وقار کی آئینہ دار ہے۔

علامہ عبدالستار عاصم نے اس گراں قدر تصنیف میں سائنس، فلسفہ، طب، ادب، معیشت، فنونِ لطیفہ، قیادت، صحافت، تعلیم، عمرانیات، کھیل، صنعت، فلکیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روحانیات کے میدانوں میں درخشندہ ستاروں کو یک جا کرکے ایک ایسا گلستان آباد کیا ہے جس کی ہر کلی خوش بوئے آگہی سے معطر اور ہر شاخ ثمرِ دانائی سے بارآور ہے۔ ابوالقاسم الزہراوی، البیرونی، الفارابی، الرازی، ابن الہیثم، ابن بطوطہ، ابن خلدون، ابن سینا اور الخوارزمی جیسے اکابرِ علم ہوں یا سقراط، کانٹ، کارل یونگ، سگمنڈ فرائیڈ اور نوم چومسکی جیسے اربابِ فکر؛ آئن سٹائن، نیوٹن، گریگر مینڈل، ایلن ٹیورنگ، جیفری ہنٹن اور سٹیفن ہاکنگ جیسے معمارانِ سائنس ہوں یا لیونارڈو ڈاونسی، مائیکل اینجلو، پکاسو، موزارٹ، شیکسپیئر، غالب اور گبریل گارسیا مارکیز جیسے شہسوارانِ فن و ادب؛ ہر شخصیت ایک دبستان، ہر کارنامہ ایک داستان اور ہر باب ایک جہانِ معنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح صلاح الدین ایوبی، محمد علی جناح، کوفی عنان، یاسر عرفات، مارٹن لوتھر کنگ، مدر ٹریسا اور وانگاری ماتھائی جیسے انسان دوست قائدین ہوں یا ہنری فورڈ، جان ڈی راک فیلر، وارن بفیٹ، لیری پیج، سرگئی برن، مارک زکربرگ، جیف بیزوس، ایلون مسک اور سٹیو جابز جیسے دنیا کو نئی جہات عطا کرنے والے صاحبانِ صنعت و ایجاد، مصنف نے ان سب کے حالات و کمالات سے ایسے گوہر ہائے نایاب چنے ہیں جو نوجوان نسل کے لیے شمعِ راہ اور مشعلِ منزل ہیں۔

اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف معلومات نہیں دیتی بل کہ شعور عطا کرتی ہے؛ صرف واقعات نہیں سناتی بلکہ جہات دکھاتی ہے؛ صرف خواب نہیں جگاتی بلکہ تعبیر کے راستے بھی بتاتی ہے۔ اس کے صفحات امید کی نوید، ہمت کی تاکید، عمل کی ترغیب اور کردار کی تمجید سے مزین ہیں۔ اس کا ہر عنوان پیامِ عمل، ہر سطر ترغیبِ مسلسل اور ہر باب جہدِ مسلسل کا علم بردار ہے۔
مصنفِ محترم نے نہایت سادہ مگر دل آویز، شستہ مگر شگفتہ، عام فہم مگر پرمغز اسلوب اختیار کرکے اس کتاب کو عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تصنیف علم و حکمت کا گلستان، فکر و آگہی کا بوستان اور تعمیرِ انسانیت کی ایک تابندہ داستان ہے۔

اگرچہ یہ شاہ کار اپنی جامعیت کے اعتبار سے لائقِ صد تحسین ہے، تاہم آئندہ اشاعتوں میں چند ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کا اضافہ اس کی معنوی وسعت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے جن کی خدمات عالمگیر اثرات کی حامل ہیں۔ خصوصاً حکیم الامت، شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ، جنھوں نے خودی، عشق، حریت، اجتہاد اور بیداریٔ امت کا وہ چراغ روشن کیا جس کی ضیا آج بھی مشرق و مغرب کے افق پر جلوہ فگن ہے۔ اسی طرح امام غزالیؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نیلسن منڈیلا، کنفیوشس، چارلس ڈارون، عبدالسلام، جارج واشنگٹن، سید ابوالحسن علی ندویؒ، عبدالستار ایدھی اور فیض احمد فیض جیسی شخصیات بھی اس گلشنِ معارف کی رونق میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

’’999 ٹریلین ڈالر کی کتاب‘‘ ایک کتاب نہیں، ایک مکتب ہے؛ ایک تصنیف نہیں، ایک تحریک ہے؛ ایک دفتر نہیں، ایک سمندر ہے؛ ایک سرمایہ نہیں، ایک خزانہ ہے۔ یہ انمول شاہ کار علم کی شوکت، فکر کی عظمت، کردار کی رفعت اور انسانیت کی خدمت کا ایسا مرقع ہے جس کی قیمت ٹریلین ڈالروں سے نہیں بل کہ بصیرت، حکمت، ہمت اور خدمت کے پیمانوں سے متعین ہوتی ہے۔

بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ علامہ عبدالستار عاصم کے قلم کو مزید روانی، فکر کو مزید توانائی، علم کو مزید وسعت اور کاوشوں کو مزید مقبولیت عطا فرمائے تاکہ ان کے فیضانِ قلم سے تشنگانِ علم سیراب، طالبانِ فکر کامیاب اور متلاشیانِ حقیقت فیض یاب ہوتے رہیں۔

نہ کوئی تاج، نہ تخت و نہ جاہ و زر کی بات
یہاں تو فکر کی ہوتی ہے بس نگاہ کی بات
یہی تو قوم کے بیدار خواب کا حاصل
یہی ہے فرد کی تعمیر و ارتقا کی بات
یہی تو رزق ہے فکروں کے قحط سالوں میں
یہی ہے قوم کے روشن دل و نگاہ کی بات

More posts